پاکستان کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس سرزمین کے دفاع کے لیے بے شمار فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ کوئی بیٹا ماں سے جدا ہوا، کوئی باپ اپنے بچوں کو چھوڑ کر وطن پر قربان ہوگیا، اور کسی بہن نے اپنے بھائی کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ یہ قربانیاں صرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ ملک میں امن، سکون اور عوام کی حفاظت کے لیے بھی دی جاتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ آج سوشل میڈیا اور سیاست کے دور میں بعض لوگ شہداء کی قربانیوں کو بھی اختلافات اور پروپیگنڈے کی نظر کر دیتے ہیں۔ کچھ لوگ بغیر تحقیق کے ایسی باتیں پھیلاتے ہیں جن سے نفرت، تقسیم اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، لیکن کسی شہید کی قربانی کا مذاق اڑانا یا اس کے جذبے کو کم تر دکھانا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک فوجی جوان جب وطن کے لیے جان دیتا ہے تو وہ کسی سیاسی جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کی قربانی پوری قوم کی امانت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت ہمیں ذمہ داری، احترام اور انصاف کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سچ اور جھوٹ میں فرق کریں۔ ہر خبر پر فوراً یقین کرنا، نفرت انگیز مواد پھیلانا یا ایک دوسرے کے خلاف ماحول بنانا معاشرے کو کمزور کرتا ہے۔ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اختلاف کے باوجود اپنے محافظوں اور شہداء کی عزت کرنا جانتی ہو۔
آج ہمیں بطور قوم یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے شہداء کو عزت دیں گے، ان کے خاندانوں کا احترام کریں گے، اور نفرت کے بجائے اتحاد، شعور اور محبت کو فروغ دیں گے۔ کیونکہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے کردار، احترام اور اتحاد سے مضبوط بنتی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
متحد رہیں 🇵🇰✊