سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی ان لاین نیوز
سکھر غربت اور بے بسی کی دردناک داستان، بھیک مانگنے والی خاتون کا کمسن بیٹا دریائے سندھ میں ڈوب کر جاں بحق
سکھر(بیورورپورٹ)سکھر میں غربت، بے بسی اور معاشرتی مسائل کی ایک انتہائی افسوسناک تصویر اس وقت سامنے آئی جب بھیک مانگنے والی ایک ذہنی توازن سے محروم خاتون کا 11 سالہ کمسن بیٹا دریائے سندھ میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق سکھر کے تھانہ سی سیکشن کی حدود میں تھرمل کے قریب دریائے سندھ کے کنارے پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں بھیک مانگ کر گزر بسر کرنے والی خاتون کا کمسن بیٹا کھیلتے یا کسی کام کے دوران اچانک دریا میں گر کر ڈوب گیا۔ذرائع کے مطابق افسوسناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ واقعہ تھانہ سی سیکشن کی حدود میں پیش آنے کے باوجود ابتدائی طور پر متعلقہ پولیس کو اس کی اطلاع تک نہ مل سکی۔اطلاع ملنے پر تھانہ قادرپور سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکار پی سی کامران علی چاچڑ اور پی سی شیوک کمار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچے کو دریا سے باہر نکالا۔ پولیس اہلکاروں نے بچے کی جان بچانے کے لیے موقع پر ہی سی پی آر (CPR) بھی دی اور بعد ازاں فوری طور پر رکشے کے ذریعے بچے کو سول اسپتال سکھر منتقل کیا۔
تاہم سول اسپتال میں موجود ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد تصدیق کی کہ بچہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا۔واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور غم کی فضا چھا گئی جبکہ شہری حلقوں نے غربت، بے سہارا افراد کی مشکلات اور ذہنی مسائل سے دوچار افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی فلاح و بہبود اور ان کے بچوں کے تحفظ کے لیے حکومتی اور سماجی سطح پر مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔