مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی— ایک ہر دلعزیز مذہبی، علمی اور سماجی شخصیت
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
معاشروں کی اصل خوبصورتی اُن شخصیات سے قائم رہتی ہے جو علم، کردار، اخلاص اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا شعار بنالیتی ہیں۔ ایسی ہی باوقار اور باعمل شخصیات میں مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی کا نام نہایت احترام اور عقیدت سے لیا جاتا ہے۔ وہ ایک ممتاز مذہبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی نہ صرف ایک جید عالمِ دین ہیں بلکہ ایک بہترین مقرر، مدبر اور انسان دوست شخصیت کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں علم و حکمت کے ساتھ ساتھ محبت، رواداری اور اخلاص کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ان سے دلی محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔
انہوں نے ہمیشہ دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے، نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت اور معاشرے میں بھائی چارے کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا۔ ان کے خطابات میں قرآن و سنت کی روشنی، اصلاحِ نفس کا پیغام اور معاشرتی برائیوں سے بچنے کی تلقین نمایاں ہوتی ہے۔ وہ اپنے علمی انداز اور مدلل گفتگو کی بدولت عوام و خواص میں یکساں مقبول ہیں۔
مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ان کی سماجی خدمات بھی ہیں۔ وہ غریب، نادار اور دکھی انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ فلاحی سرگرمیوں، رفاہی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو اتحاد، محبت، صبر اور برداشت کا درس دیتے ہیں، جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے۔
علمی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ انہوں نے دینی علوم کے فروغ اور نوجوانوں کو دین سے جوڑنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محافل اور دروسِ قرآن سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔ ان کی شخصیت میں عاجزی، انکساری اور خلوص نمایاں ہے جو انہیں دیگر شخصیات سے ممتاز بناتا ہے۔ بطور عربی ٹیچر کے گورنمنٹ ہائ سکول فار بوائز رنگپور بگھور کے لیے ان کی گراں قدر خدمات ہیں جن پر عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی ذات والا صفات نے آپ کے خاندان کو دینی لحاظ سے ممتاز مقام عطا کیا ہے ۔ آپ کے والد محترم مولانا غلام محمد میروی کا شمار ممتاز جید علماےء کرام و مشائخ عظام میں ہوتا تھا انہوں نے ساری زندگی دین متین کی اشاعت اور عشق مصطفی ا صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع لوگوں کے دلوں میں فروزاں کرنے کے لیے وقف کردی اور اللہ تعالی ا کے فضل و کرم سے آج ان کے صاحبزادگان دین متین کی ترویج کی یہ عظیم سعادت حاصل کر رہے ہیں ۔ صاحبزادہ عطا المصطفی ا زمانہ طالب علمی ہی سے اپنے والد محترم مولانا غلام محمد میروی کی زیر سرپرستی بہترین مذہبی ماحول میں پرورش پائی آپ نے بطور ناظم انجمن طلبہ اسلام نہ صرف اپنے آبائ علاقہ رنگپور بگھور بلکہ ضلع خوشاب کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا اور طلبہ کے دلوں پر راج کیا ۔ آپ نے عشق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شمع طلبہ کے دلوں میں فروزاں کرنے کے لیے دن رات کام کیا جس کی وجہ سے اے ٹی آئی کے مرکزی قائدین ان کی دل و نگاہ سے قدر کرتے تھے زمانہ طالب علمی کے بعد بھی صاحبزادہ عطا المصطفی ا میروی نے یہ عظیم مشن آج بھی جاری و ساری رکھا ہوا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ معاشرے کو ایسے ہی مخلص، دیانتدار اور باکردار افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو لوگوں کے لیے امید، محبت اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔ مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی اپنی دینی، علمی اور سماجی خدمات کی بدولت عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ مولانا عطاءالمصطفیٰ میروی کو صحت، تندرستی اور مزید خدمتِ دین و انسانیت کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں۔ آمین۔