16

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)حیسکو کے روشنیوں کے سفر کی 55 ویں کڑی ,نواب شاہ شہر کے اہم تجارتی 11 کے وی موہنی بازار فیڈر کو لوڈشیڈنگ فری قرار

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)حیسکو کے روشنیوں کے سفر کی 55 ویں کڑی ,نواب شاہ شہر کے اہم تجارتی 11 کے وی موہنی بازار فیڈر کو لوڈشیڈنگ فری قرار دے دیا گیا حیسکو چیف فیض اللہ ڈاہری نے فیڈر کو لوڈشیڈنگ فری کرنے کا باضابطہ اعلان نواب شاہ شہر میں منعقدہ تقریب میں کیاڈپٹی کمشنر نواب شاہ عبدالصمد نظامانی، ایس ایس پی نواب شاہ سمیر نور چنہ، چیمبر آف کامرس کے کامران قیوم قریشی، منیر کھوکھر، عابد ملک، رشید قریشی شریک تقریب میں نواب شاہ شہر کی اہم سیاسی، سماجی، کاروباری شخصیات و معززین شہری بھی شریک ہوئے تقریب میں او ڈی حیسکو اعجاز شیخ، چیف پلاننگ رمیش کمار، ڈی جی میراڈ عبدالماجد جتوئی، حیسکو افسران سرور انڑ، جاوید صدیقی، گلزار احمد دستی، ایکسئین نواب شاہ مخدوم مدثر، ایس ڈی او الطاف میرانی ، غلام سرور لاشاری ، جاوید قریشی و دیگر بھی موجود تھے، حیسکو ترجمان کے مطابق لوڈشیڈنگ فری کیے گئے فیڈر پر 102 ٹرانسفارمرز ہیں، گیارہ کے وی موہنی بازار فیڈر پر 1 ہزار 116 ڈومیسٹک اور 2 ہزار 502 کمرشل کنکشنز ہیں،موہنی بازار فیڈر 132 کے وی گرڈ اسٹیشن سوسائٹی کا فیڈر ہے، لوڈشیڈنگ فری کیا جانے والا فیڈر 7.8 کلو میٹر کی ایچ ٹی لائن اور 6 کلومیٹر کی ایل ٹی لائن پر منحصر ہے، حیسکو انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں کئی فیڈرز کو مکمل طور پر لوڈشیڈنگ سے پاک کر دیا جائے گا، جبکہ بجلی کے نظام کو محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ایسا نظام بنایا جا رہا ہے جس میں تمام کنکشن محفوظ ہوں، بجلی چوری پر قابو پایا جا سکے اور مقامی رہائشی بھی اپنے علاقوں کے فیڈرز کی نگرانی میں حیسکو کے ساتھ تعاون کریں۔حیسکو حکام کا کہنا ہے کہ جن فیڈرز پر ریکوری 100 فیصد اور لائن لاسز مقررہ حد کے اندر ہوں گے، وہاں 24 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ ماڈل ایک کامیاب “کیس اسٹڈی” بن چکا ہے اور معاشی ماہرین بھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے ادارے کو کس طرح بہتری کی جانب لایا گیا۔انتظامیہ کے مطابق حیسکو نے رواں مالی سال کے دوران قومی خزانے کو 25 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ہے، جبکہ دو ماہ باقی ہونے کے باعث یہ رقم 30 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی چوری میں کمی اور ریکوری میں اضافے سے ادارہ مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہے۔حیسکو نے 2028-29 تک ادارے کو منافع بخش بنانے کا روڈ میپ بھی تیار کر لیا ہے، جس کے فوائد صارفین تک بہتر بجلی فراہمی، کم لوڈشیڈنگ اور ممکنہ ریلیف کی صورت میں پہنچیں گے۔ حکام کے مطابق مسلسل بجلی سے کاروبار، صنعتیں، تعلیم اور اسپتالوں کے نظام میں بہتری آئے گی، جبکہ سولر توانائی کو بہتر متبادل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مکمل انحصار اب بھی روایتی بجلی نظام پر ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں