15

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) حیسکو (HESCO) انتظامیہ کی کھلم کھلا انتقامی کارروائی: سچ کی آواز

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) حیسکو (HESCO) انتظامیہ کی کھلم کھلا انتقامی کارروائی: سچ کی آواز دبانے کی ناکام کوشش!​حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اور عدالتی احکامات کا مذاق بناتے ہوئے ایک ایماندار ملازم کو نشانہ بنایا گیا ہے۔حیسکو کیریئر پلاننگ سیل-I (ہیلڈ کوارٹر حیدرآباد) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ آفس آرڈر (نمبر: 5681-85، مورخہ 20 مئی 2026) کے مطابق، مسٹر محمد حسین ولد غلام نبی جمالی، ایل ڈی سی (اسٹیبلشمنٹ)، جو کہ آپریشن سرکل حیسکو نوابشاہ میں تعینات تھے، انہیں فوری طور پر ایگزیکٹو انجینئر (XEN) SS&T ڈویژن GSO حیسکو حیدرآباد میں خالی اسامی پر ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔ آرڈر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملازم کو فوری طور پر چارج چھوڑنا ہوگا اور کوئی TA/DA بھی نہیں دیا جائے گا۔ قانونی شکست اور انتقامی کارروائی کا اصل سچ:یہ ٹرانسفر کوئی معمولی انتظامی عمل نہیں، بلکہ واضح طور پر ایک بدترین انتقامی کارروائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حیسکو لیگل ڈپارٹمنٹ کے افسران نے ایم ایچ جمالی کی لیبر کورٹ سے بحالی کے آرڈر کو سندھ لیبر اپیلیٹ ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ لیکن قانون اور انصاف کی فتح ہوئی، اور حیسکو انتظامیہ کی جانب سے کیس کی پیروی کرنے والے حیسکو لیگل ڈپارٹمنٹ کے افسران 19 مئی 2026 کے عدالتی فیصلے (Judgment) کے مطابق اپنا کیس بری طرح ہار گئے اور انہیں تاریخی شکست اور بدنامی کا سامنہ کرنا پڑا رہا ہے!​عدالت عالیہ میں ملنے والی اس عبرت ناک شکست کو ہضم نہ کرتے ہوئے، حیسکو انتظامیہ نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر محض ایک ہی دن بعد یعنی 20 مئی 2026 کو یہ آرڈر جاری کر دیا، اور انہیں آپریشن سرکل حیسکو نوابشاہ سے XEN SS&T ڈویژن GSO حیسکو حیدرآباد کے دفتر زبردستی منتقل (Post) کر دیا۔ ایم ایچ جمالی کا جرم کیا ہےایم ایچ جمالی کا اصل “جرم” یہ ہے کہ وہ حیسکو کے اندر ہونے والی کروڑوں روپے کی کرپشن کو بے نقاب کرنے، اور مظلوم ملازمین سمیت عوام کے حقوق کے لیے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی متحرک، بے باک اور مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں