امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں
اتوار 24 مئی 2026
ٹحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو صرف انفرادی عبادات ہی نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح، اخلاقی پاکیزگی اور معاشرتی بھلائی کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کے اجتماعی نظام کا ایک عظیم ستون “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” ہے، یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کے ذریعے معاشرے میں خیر، عدل، پاکیزگی اور امن قائم رہتا ہے، جبکہ اس کے ترک سے فتنہ، فساد، ظلم اور اخلاقی تباہی جنم لیتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کی فضیلت کا ایک بڑا سبب یہی بیان فرمایا:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
“تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔”
اس آیت سے واضح ہوا کہ امتِ مسلمہ کی عظمت صرف نام یا نسل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کی وجہ سے ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
“تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔”
یہی فریضہ تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی حصہ رہا۔ حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ سب نے لوگوں کو توحید، نیکی اور عدل کی دعوت دی اور شرک، ظلم اور گناہوں سے روکا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس فریضے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔”
یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مومن بےحسی اور لاتعلقی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اگر معاشرے میں برائی پھیل رہی ہو اور اہلِ ایمان خاموش رہیں تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے متاثر ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے زوال کا ایک بڑا سبب بھی یہی بیان کیا گیا:
كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
“وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے نہیں روکتے تھے، بے شک وہ بہت برا کام کرتے تھے۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب قومیں برائی کو دیکھ کر خاموش ہو جائیں، ظلم، فحاشی، بے حیائی، سود، جھوٹ، دھوکہ، کرپشن اور ناانصافی کو معمول سمجھنے لگیں تو اللہ کا عذاب اور زوال ان پر آ جاتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو ترک کر دیا ہے۔ والدین اولاد کی تربیت سے غافل ہیں، علماء و اہلِ دانش حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں، اور عام لوگ “مجھے کیا” کی سوچ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نتیجتاً:
جھوٹ عام ہو گیا، سودی نظام مضبوط ہو گیا،
بے حیائی اور فحاشی بڑھ گئی، ظلم، کرپشن اور خیانت معاشرے میں پھیل گئی۔
حالانکہ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ: اپنے گھر سے اصلاح کا آغاز کرے، اولاد کو دین و اخلاق سکھائے، نرمی، حکمت اور اچھے انداز سے لوگوں کو نیکی کی دعوت دے، اور خود بھی اپنے کردار سے اسلام کا نمونہ بنے۔
البتہ اسلام نے امر بالمعروف کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔ اصلاح میں:
حکمت، نرمی، اخلاص، اور خیر خواہی ضروری ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
“اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔”
لہٰذا امر بالمعروف کا مطلب سختی، بدتمیزی، تحقیر یا فتنہ پیدا کرنا نہیں بلکہ خیر خواہی اور اصلاح ہے۔
ایک سچا مومن خود بھی نیکی پر عمل کرتا ہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتا ہے۔ وہ نماز، روزہ، حلال رزق، سچائی، عدل، حیا اور دیانت کی تلقین کرتا ہے اور شرک، ظلم، فحاشی، نشہ، سود، جھوٹ اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔
اگر امتِ مسلمہ دوبارہ اس فریضے کو زندہ کر لے تو:
گھروں میں سکون آئے گا،
معاشرہ پاکیزہ ہوگا،
عدل قائم ہوگا، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت شاملِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، اس پر عمل کرنے، اور حکمت و اخلاص کے ساتھ نیکی پھیلانے اور برائی روکنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333