21

واں بھچراں /میانوالی کے سئنیر صحافی حسن ناصر بھچر کو حسن کارکردگی سرٹیفیکیٹ کی عطائیگی

واں بھچراں /میانوالی کے سئنیر صحافی حسن ناصر بھچر کو حسن کارکردگی سرٹیفیکیٹ کی عطائیگی

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جو سچائی، دیانت اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا تقاضا کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے دور میں جہاں صحافت کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں، وہاں کچھ شخصیات ایسی بھی موجود ہیں جو اپنی محنت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے اس شعبے کا وقار بلند رکھے ہوئے ہیں۔ ضلع میانوالی کے قصبہ واں بھچراں سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حسن ناصر بھچر بھی انہی باوقار شخصیات میں شامل ہیں۔
حالیہ دنوں واں بھچراں میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں حسن ناصر بھچر کو ان کی بہترین صحافتی خدمات کے اعتراف میں حسنِ کارکردگی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ معروف سرائیکی شاعر اور تقریب کے مہمانِ خصوصی جاوید راز نے انہیں تعریفی اعزازی سند پیش کی۔ یہ اعزاز دراصل ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ذمہ دار صحافت، عوامی شعور اور مثبت سوچ کی فتح ہے۔ واضح رہے کہ ضلع میانوالی کے سرمایہ ء افتخار حسن ناصر بھچر کو اللہ تعالی ا نے اعلی ا صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ۔ موصوف انتہائی ہردلعزیز پروقار، بردبار ،ملنسار، ہنس مکھ، معاملہ فہم اور متحرک شخصیت کے مالک ہیں ۔ اپنے انہی اوصاف حمیدہ کی وجہ سے عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں نہایت عزت و وقار کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اور بہت مقبول ہیں ۔ حسن ناصر بھچر وسیع حلقہ ءاحباب رکھتے ہیں ۔ آپ یاروں کے یار ہیں ،اپنے دوست احباب پر جان چھڑکتے ہیں ۔ آپ حرمت قلم کی پاسداری کےلیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک صحافت صرف خبریں دینا نہیں بلکہ معاشرے کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور حقائق کو دیانت داری کے ساتھ عوام تک پہنچانا بھی ہے۔ حسن ناصر بھچر نے ہمیشہ قلم کی حرمت کو مقدم رکھا۔ انہوں نے نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ سماجی، تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کو بھی اپنی تحریروں کے ذریعے بھرپور انداز میں نمایاں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی، سماجی، تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
موجودہ دور میں حسن ناصر بھچر جیسے صحافی امید کی روشن کرن دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت نوجوان صحافیوں کیلئے ایک مثال ہے کہ اگر محنت، خلوص اور سچائی کو اپنا شعار بنایا جائے تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔
ممتاز قلم کار حسن ناصر بھچر کو جس شاندار تقریب میں اعزاز سے سرفراز کیاگیا اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ حسن ناصر بھچر نے اپنی صحافتی زندگی میں لوگوں کے دل جیتے ہیں۔ ان کی خدمات کو جس انداز میں سراہا گیا، وہ نہ صرف ان کیلئے بلکہ پورے خطے کی صحافتی برادری کیلئے باعثِ فخر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے ایسے ہی قلمکاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر عوام کی آواز بنیں۔ حرمت قلم کے پاسدار حسن ناصر بھچر نے اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ صحافت اگر ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ کی جائے تو یہ صرف پیشہ نہیں بلکہ عبادت بن جاتی ہے۔
دعا ہے کہ حسن ناصر بھچر مستقبل میں بھی اسی جذبے، محنت اور دیانت داری کے ساتھ صحافت کے میدان میں اپنی خدمات انجام دیتے رہیں اور نوجوان نسل کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں