11

ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 سرگودھا کے زیراہتمام محمد حسین شوق کی برسی پر خصوصی گفتگو خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 سرگودھا کے زیراہتمام محمد حسین شوق کی برسی پر خصوصی گفتگو

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

ریڈیو پاکستان ایف ایم 101 سرگودھا کے پروگرام ادب نامہ میں یاد رفتگاں کے حوالے سے خصوصی پروگرام نشر کیا گیا ۔ جس کی میزبان منزہ انور گوئندی تھیں جبکہ پروڈیوسر فریحہ کنول اور تکنیکی معاون نعمان شفیق تھے ۔
سرگودھا کے بزرگ شاعر اور ماہر تعلیم محمد حسین شوق کی برسی کے موقع پر یاد رفتگاں کے عنوان سے خصوصی گفتگو نشر کی گئی جس میں فیصل آباد سے آنے والے نامور سینئر شاعر اور ادیب کامران رشید نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ سرگودھا کی ادبی تاریخ جن روشن ناموں سے جگمگا رہی ہے ان میں سرفہرست جو نام ہیں ان میں محمد حسین شوق اور انور گوئیندی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں یہ دونوں اصحاب نہ صرف بہترین دوست بلکہ محسن ادب بھی تھے ۔ کامران رسالہ کے مشاعروں میں انور گوئیُندی اپنے دوست محمد حسین شوق جنہیں وہ استاد کا درجہ دیتے تھے لازمی شریک کرتے اور اکثر مشاعروں میں ان کی صدارت ہوا کرتی تھی ۔ یہاں یہ کہنا بجا ہو گا کہ انور گوئندی نے اپنے رسالہ کامران اور مشاعرہ کامران میں نہ صرف سرگودھا کے شعراء و ادباء بلکہ کل پاک و ہند کے ادباء و شعراء کو یکجا کر دیا تھا ۔ ان کی بے مثل ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ کامران رشید نے دوران گفتگو اس دور کے شعراء کا کلام اشعار کی صورت بھی پیش کیا ۔ منزہ انور گوئیندی نے کہا کہ انہوں نے آنکھ کھولتے ہی اپنے گھر کو علم و ادب سے منور پایا جس کی بدولت شعر و سخن ان کی رگ و پے میں سما گیا اور یہ روایت ان کے لیے باعث افتخار ہے کہ وہ ادبی گھرانے کی پروردہ ہیں ۔ محمد حسین شوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ رزق حلال ان کا طرہ امتیاز تھا اور علم و ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا وہ انور گوئیندی کے روحانی باپ ، رہنما اور استاد تھے ۔ محمد حسین شوق ایک درویش طبع اور باوصف انسان تھے جن کا روحانی فیض اب تک جاری و ساری ہے ۔
سینئر صحافی اور اے پی پی کے آفیسر تنویر قریشی نے کہا کہ منزہ انور گوئیندی ایک مثالی بیٹی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے والد بلکہ ان کے دوست احباب کی یادوں کو بھی فراموش نہیں ہونے دیا ۔ منزہ انور گوئیُندی کی اپنی خدمات کا سلسلہ بھی نہایت طویل ہے ۔ جن کا اعتراف اے پی پی کے پلیٹ فارم سے بارہا کیا جا چکا ہے ۔ ادب نامہ پروگرام کے تین حصے تھے پہلا یاد رفتگاں پر گفتگو پر محیط رہا جب کہ دوسرا حصہ صحافت کے اغراض و مقاصد اور معاشرے پر اس کے اثرات پر مشتمل تھا جس پر گفتگو کرتے ہوئے کامران رشید نے کہا کہ اب صحافت کے طریقہ کار میں واضح تبدیلی آئی ہے ۔ پہلے زبان و بیاں پر غور کیا جاتا تھا اب کمرشلزم کا دور ہے ۔ منزہ گوئندی نے کہا کہ ان کے والد نے جو صحافت کی وہ دور اولین تھا اور اس وقت نستعلیق لوگ ہوا کرتے تھے اسی لیے خبروں کو ادبی پیرائے میں لکھا جاتا تھا حتاکہ ا شتہارات بھی ان کے والد اپنے قلم سے لکھا کرتے تھے اور شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا ۔ تنویر قریشی نے کہا کہ پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صحافت کا اصل مفہوم کیا ہے اس کے بعد اپنے فرائض کو نباہنا ضروری امر ہے ان کا تعلق پاکستان لیول پر صحافت سے ہے اور ان کا ادارہ اے پی پی بالخصوص شفاف صحافت کا امین ہے ۔
پروگرام کے تیسرے حصے میں کتابوں کی اہمیت اور قاری کی وابستگی پر بات کی گئی اس ضمن میں کامران رشید نے کہا کہ اب کتاب کی تعداد پر ضرور دیا جاتا ہے معیار پر نہیں اسی لیے قاری کی دلچپی اب وہ نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔ کتاب کا مواد نہ دیکھا جاتا ہے نہ پڑھا جاتا ہے اور نہ پرکھا جاتا ہے آج کتب کی فراوانی لیکن علم کی گرانی سامنے آئی ہے لوگ آج بھی پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں ۔
منزہ گوئندی نے کہا کتب بینی ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو لفظ لفظ اپنے پوری تاثیر سے رگ و پے میں دوڑتا ہے انہوں نے کہا کہ وسیع مطالعے نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور سنوارا ہے ۔ تنویر قریشی نے کہا کہ علم عمل کی راہ استوار کرتا ہے اس لیے کتب بینی انسان کو عملی راہوں کا پتہ دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں