9

میرپورخاص (شاھدمیمن) ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کیس میں انصاف کے حصول،

میرپورخاص (شاھدمیمن)
ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کیس میں انصاف کے حصول، تحقیقات میں سست روی، اور تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے خلاف آج طلبہ، وکلاء، ڈاکٹرز، سماجی و سیاسی کارکنان، سول سوسائٹی، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی اجتماع میں شرکت کی۔
شرکاء نے ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کیس پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک باصلاحیت، پوزیشن ہولڈر طالبہ کو مبینہ طور پر ذہنی دباؤ، کردار کشی، آن لائن ہراسمنٹ، اور انتظامی غفلت کا سامنا کرنا پڑا، مگر آج تک ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر اور واضح کارروائی نظر نہیں آ رہی۔
مقررین نے شدید حیرت کا اظہار کیا کہ جن افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور جنہیں فوری طور پر انتظامی و تدریسی ذمہ داریوں سے الگ کیا جانا چاہیے تھا، وہ اب بھی یونیورسٹی میں موجود ہیں، طلبہ کو پڑھا رہے ہیں، اور مبینہ طور پر تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں ہیں۔
اجتماع میں یہ خدشات بھی سامنے لائے گئے کہ یونیورسٹی سے متعلق بعض سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز حذف کیے جانے اور بعض کیمرے ہٹائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جو نہایت سنگین معاملہ ہے اور اس کی فوری و شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
شرکاء نے کہا کہ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی جانب سے دی گئی شکایات اور پولیس کو دیے گئے دفعہ 161 کے بیان پر بھی اب تک کوئی واضح عملی پیش رفت نظر نہیں آئی، جس سے متاثرہ خاندان اور عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کے خلاف جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی بنا کر کردار کشی کی گئی، انہیں غلط ناموں سے پکارا گیا، اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار بنایا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے سنگین الزامات اور عوامی ردعمل کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اب تک نہ کوئی واضح احتساب سامنے آیا اور نہ ہی کسی متعلقہ فرد کے خلاف مؤثر انتظامی کارروائی کی گئی۔
احتجاج میں درج ذیل مطالبات پیش کیے گئے:

• ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کیس کی تحقیقات کو ہنگامی بنیادوں پر تیز کیا جائے۔
• جعلی آئی ڈی اور اس کے پیچھے موجود تمام عناصر کو فوری طور پر بے نقاب کیا جائے۔
• جن افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں انہیں شفاف انکوائری مکمل ہونے تک فوری طور پر معطل کیا جائے۔
• سی سی ٹی وی ریکارڈ حذف کرنے یا کیمرے ہٹانے کے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
• دفعہ 161 کے بیان اور دیگر شواہد پر فوری قانونی پیش رفت کی جائے۔
• سندھ سمیت پاکستان کی تمام جامعات میں مؤثر، فعال، اور جوابدہ اینٹی ہراسمنٹ سیلز قائم کیے جائیں۔
• اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں میں طلبہ، خصوصاً طالبات، کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
• ہراسمنٹ پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے کر انہیں مزید سخت، مؤثر، اور طلبہ کے سرویز و زمینی حقائق کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے۔
مقررین نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بچیوں کو کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخل کروانے سے پہلے اس ادارے کے ماحول، انتظامیہ، اور طلبہ کے تحفظ کے نظام کا مکمل جائزہ ضرور لیں۔
احتجاج کے اختتام پر مقررین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر تحقیقات میں واضح پیش رفت نہ ہوئی، جعلی آئی ڈی اور اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب نہ کیا گیا، ذمہ دار افراد کو معطل نہ کیا گیا، اور شواہد کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا، تو احتجاجی تحریک کو سندھ بھر میں مزید وسعت دی جائے گی۔

مقررین نے کہا کہ ایس ایس پی آفس، ڈی سی آفس، ٹول پلازہ، اور سندھ کی کوئی بھی شاہراہ عوام کی پہنچ سے دور نہیں، اور انصاف کے حصول کے لیے آئینی، قانونی، اور پُرامن احتجاج ہر سطح پر کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں