سر جی : میرے شوہر سے میری جان چھڑوا دیں ۔۔۔ ایک خاتون آر پی او فیصل آباد سہیل اختر سکھیرا کے پاس ایسا مسئلہ لے آئی کہ سکھیرا صاحب سمیت تمام موجود افسران بھی سوچ میں پڑ گئے ، کیا کریں کیا نہ کریں ۔۔۔۔۔
خاتون کے بقول : ہماری شادی کو کئی سال گزر گئے بچے بھی جوان ہو رہے ہیں لیکن شوہر کی پرانی عادت ، باہر منہ مارنا نہیں چھوڑا ، پہلے تو مرد کی عمومی عادت سمجھ کر چپ رہی لیکن اب سوچتی ہوں کہ کل کو بچوں کی شادیاں کرنی ہیں ۔ کس منہ سے کسی سے بیٹوں کا رشتہ مانگوں گی کون ہماری بیٹی بیاہنے آئے گا جب کہ حالات پوری برادری کے علم میں ہیں ۔۔۔۔ تحفظ کے لیے میرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں میرا 15 تولے زیور بھی کاروبار کے نام پر لے لیا ، مکان بھی اسکے نام پر ہے ، کاروبار سے جو آتا ہے اس میں سے گھر کے خرچے اور بچوں کے اخراجات کے علاوہ کچھ نہیں دیتا ۔۔۔میں نے والد کی منت کی کہ اسے سمجھائیں ، سسرال والوں کو بھی کہا سب نے اسے سمجھایا مگر میسنا بن کر ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے چلو آئندہ نہیں ہو گا مگر پھر چند دن بعد اسکی یہی حرکتیں ہوتی ہیں ، کل رات بھی اپنی معشوق کے پاس رہا صبح گھر آیا ۔۔۔۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ شوہر سے طلاق لے لوں اور بچوں کے سہارے باقی زندگی آزاد رہ کر گزاروں شاید بچے اپنا اور میرا مستقبل روشن کردیں ۔۔۔۔۔۔
خاتون کی بات سن کر سکھیرا صاحب نے کہا : میرا مشورہ ہے کہ طلاق نہ لو ، اپنے گھر میں جم کر بیٹھی رہو ، دفع کرو اسے جو کرتا ہے کرنے دو۔۔۔ اگر ہم اسے یہاں بلائیں گے ، فریق بازی ہو گی تو آخر تمہیں طلاق مل جائے گی مگر میں چاہتا ہوں طلاق یافتہ کا لیبل نہ لگاؤ اپنے ماتھے پر ۔۔۔ مرد کے بغیر بچوں والی عورت اور باپ کے سائے کے بغیر بچوں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی ، سو مسائل ہوتے ہیں ۔ جب کہ تمہارے پاس یا تمہارے نام پر کچھ بھی نہیں ۔۔۔ ایک والد یا بڑے بھائی کی جگہ میں مشورہ دونگا کہ نباہ کرو ۔۔ اللہ سب کام آسان کرنے والا ہے اور وہ سب دیکھ رہا ہے ۔۔۔ حالات بدلتے اور مشکلات ختم ہوتے دیر نہیں لگتی ۔۔۔۔ جاؤ بیٹا کچھ ہفتے سوچو ، اگر دل نہ مانے۔ گزارہ نہ ہو میرے پاس آجانا ۔۔۔۔ پھر تم جو چاہو گی ہو جائے گا ۔۔۔۔۔
اب آپ بتائیں ۔ سکھیرا صاحب کا مشورہ درست ہے یا خاتون کے مسئلے کا کوئی اور حل بھی ہے ؟؟
جیکب آباد :(نامه نگار) بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی
ساجدہ کاظمی کے شعری مجموعہ” زنجیر شناسائی” کی تقریب رونمائی. خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) معرکہ حق کی تاریخی فتح کو ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) ڈپٹی کمشنر خوشاب ڈاکٹر جہانزیب حُسین لابر نےڈی ایچ کیو
سرگودھا (راجہ نورالہی عاطف سے) چیف کمشنر ایف بی آر سرگودھا ریجن فرید اللہ جان کی جانب سے