صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاقات کا خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
اجلاس خصوصی طور پر باجوڑ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کی تحریک استحقاق پر طلب کیا گیا۔
پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاقات کا خصوصی اجلاس ڈپٹی سپیکر و چئیرپرسن کمیٹی ثریا بی بی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس خصوصی طور پر باجوڑ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی نثار باز کی تحریکِ استحقاق پر طلب کیا گیا، جنہیں ماہِ رمضان میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانگی سے اس بنیاد پر روک دیا گیا تھا کہ ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل ہے۔اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی، افتخار مشوانی، رشاد خان، نثار باز، عبدالاسلام آفریدی، عبید الرحمان اور عدنان خان نے شرکت کی، جبکہ احمد کنڈی، سجاد اللہ خان اور منیر حسین لغمانی نے بذریعہ زوم اجلاس میں حصہ لیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اکرام اللہ خان، اسپیشل سیکرٹری داخلہ شگفتہ نوید، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سیف الاسلام، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے شوکت علی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر اعجاز اور صوبائی اسمبلی کے متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ متعلقہ رکن اسمبلی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) کے بجائے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں شامل کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں سفر سے روکا گیا۔
اس موقع پر چئیرپرسن کمیٹی ثریا بی بی نے کمیٹی اراکین کی سفارشات کی روشنی میں صوبائی محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے میں اب تک کی گئی کارروائی اور پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگلے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس کو طلب کیا جائے گا تاکہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کریں۔کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ آئندہ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام، وفاقی حکومت کے ساتھ رابطوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر کسی منتخب عوامی نمائندے کا نام ای سی ایل، پی سی ایل یا پی این آئی ایل میں شامل کیا جائے تو صوبائی حکومت، سپیکر صوبائی اسمبلی اور متعلقہ رکن کو پیشگی آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔اجلاس میں باہمی مشاورت سے یہ بھی طے پایا کہ پیر 18 مئی 2026 کو صوبائی اسمبلی میں ایک مشترکہ آئینی قرارداد پیش کی جائے گی، جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا کے منتخب نمائندوں کے نام بلاجواز ای سی ایل، پی سی ایل یا پی این آئی ایل میں شامل نہ کیے جائیں۔ قرارداد میں وفاقی اداروں سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ وہ صوبائی اسمبلی کو ان تمام اراکین کی مکمل تفصیلات اور وجوہات فراہم کریں جن کے نام مذکورہ فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔چئیرپرسن قائمہ کمیٹی ثریا بی بی نے قائمہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس جمعرات 21 مئی 2026 کو صوبائی اسمبلی میں طلب کر لیا۔