سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز
،سکھر: سندھ کا تیسرا بڑا شہر ان دنوں بدامنی کی لپیٹ میں ٹاؤن شپ سے ایک اور کار چوری، شہری خوفزدہ
سکھر(بیورورپورٹ)سندھ کا تیسرا بڑا شہر ان دنوں انتہائی بدامنی کی لپیٹ میں سکھر کے علاقہ ٹاؤن شپ میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کی نیند اڑا دی ہے۔ ٹاؤن شپ کے رہائشی سردار خادم حسین رک کی قیمتی جی ایل آئی کار رات گئے نامعلوم چوروں کے ہاتھوں چوری ہوگئی۔ یہ واقعہ علاقہ مکینوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں پہلے بھی متعدد مرتبہ چوریوں کی وارداتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔ٹاؤن شپ کے شہریوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کار چوری، موٹر سائیکل چوری اور دیگر چھوٹی بڑی وارداتوں کے خلاف بارہا احتجاج کیا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں بے اثر ثابت ہورہی ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹاؤن شپ سے چار سے زائد گاڑیاں چوری ہوچکی ہیں، جبکہ متعدد موٹر سائیکلیں بھی بغیر نشان کے غائب ہوگئیں۔علاقہ مکینوں نے ایس ایس پی سکھر سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایک احتجاجی مظاہرے میں شہریوں نے کہا:”جرات اتنی بڑھ چکی ہے کہ دن دیہاڑے اور رات کے اندھیرے میں چور بے خوف ہوکر وارداتیں کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، جبکہ اصل مجرم فرار ہیں۔”بڑھتی ہوئی چوریوں کے واقعات نے علاقہ میں تعینات پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ رات گئے گاڑیوں کی پارکنگ تک محفوظ نہیں سمجھتے۔ ٹاؤن شپ کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور گشت کو مزید موثر بنایا جائے۔متاثرہ شہریوں اور علاقہ مکینوں نے ایس ایس پی سکھر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور چوری شدہ کاروں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ شہریوں کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔واضح رہے کہ چند روز قبل بھی ٹاؤن شپ سے ایک اور گاڑی چوری ہوئی تھی، جس کی کوئی اطلاع پولیس کو اس وقت تک موصول نہیں ہوئی جب تک شہریوں نے خود پولیس اسٹیشن کا محاصرہ نہ کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے خود ہی منظم ہو رہے ہیں۔سندھ کے تیسرے بڑے سکھر شہر میں جرائم میں اضافے کے پیش نظر شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ پولیس کی بے اثری صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔