سکھر جے یو آئی سندھ کے قائد علامہ راشد محمود سومرو کا آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف سازشوں کی شدید مذمت
سکھر(بیورورپورٹ)جمعیت علمائے اسلام سندھ کے قائد علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ ملک کے آئین میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے خلاف کسی بھی سازش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، علامہ راشد محمود سومرو نے مزید کہا کہ جے یو آئی کی قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں جیتی ہوئی سیٹیں دھاندلی کے ذریعے ہرائی گئی تھیں، ان کے خلاف جے یو آئی کی اپیلیں کئی سالوں سے الیکشن ٹریبونلز میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان اپیلوں پر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر انہیں نمٹا دیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ ہم حقیقت میں کھیتے ہیں یا ہارتے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ، پیسے اور خرید و فروخت کا نظام ختم ہو جائے تو ان کے سہارے اقتدار میں آنے والے لوگ کبھی حکومت میں نہیں آ سکتے۔ علامہ سومرو نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف جتنی بلند آواز جے یو آئی نے اٹھائی ہے، اتنی کسی اور جماعت نے نہیں اٹھائی۔انہوں نے پانی کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے تو دوسری طرف پنجاب نے غیر قانونی سی جے کینال اور ٹی پی لنک کینال کھول کر معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے سندھ میں پانی کی شدید کمی پیدا ہو گی۔ انہوں نے اسے سندھ کے ساتھ صریح ناانصافی قرار دیا۔واضح رہے کہ علامہ راشد محمود سومرو نے انتخابی ٹریبونلز میں زیر التوا کیسز کو فوری نمٹانے اور آئینی تحفظات کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔