10

اجرت یا موت؟ سکھر کے مزدور کی دھمکی کے بعد احتجاج”

اجرت یا موت؟ سکھر کے مزدور کی دھمکی کے بعد احتجاج”

سکھر: سکھر کے عامر شیخ نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے ٹرانسپورٹر رضوان میمن پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مزدور کو کام کے بدلے اجرت مانگنے پر رائفل تان کر دھمکایا۔ عامر شیخ کے مطابق، وہ اور دیگر مزدور رضوان میمن کے گھر کی پینٹنگ اور مرمت کا کام کرنے گئے تھے، جسے انہوں نے مکمل کر لیا تھا۔
مزدور نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اپنی محنت کی جائز اجرت طلب کی تو رضوان میمن نے نہ صرف ادائیگی سے انکار کیا بلکہ انھیں دھمکی دی کہ اگر دوبارہ اجرت کی بات کی تو جان کے لالچ میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شیخ نے بتایا، “یہ محض زبانی دھمکی نہیں تھی، انہوں نے واقعی رائفل میرے سر پر تان دی۔ ہمیں واقعی خطرہ محسوس ہوا۔ ہم صرف اپنی محنت کی اجرت چاہتے ہیں، لیکن اب جان کا خوف بھی ہے۔”
عامر شیخ نے ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب اور ایس ایس پی سکھر سے فوری قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے تاکہ رضوان میمن کے خلاف ایکشن لیا جائے اور مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مقامی مزدور حقوق کے کارکنان نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ سکھر میں مزدوروں کی حالت زار کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک فعال کارکن نے کہا، “یہ صرف اجرت کا مسئلہ نہیں، بلکہ مزدوروں کی حفاظت اور انسانی وقار کا مسئلہ ہے۔ حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ کوئی مزدور اس طرح کی دھمکی کا شکار نہ ہو۔”
یہ واقعہ مزدور قوانین کے نفاذ میں موجود کمزوریوں اور طاقتور افراد کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے، اور سکھر کی کمیونٹی میں اس کے خلاف بڑھتی ہوئی احتجاجی آوازیں اب واضح پیغام دے رہی ہیں کہ مزدوروں کے حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں