پاکستان تیل، بجلی و گیس کی مقامی قیمتوں کو لاگت کے مطابق رکھے، مستحق صارفین کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔آئی ایم ایف
اخراجات میں کمی اور نااہلیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے سے توانائی کے شعبے کی پائیداری محفوظ ہوگی۔عالمی ادارہ
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پاکستان کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی قسطوں کی منظوری کے ساتھ ہی آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ماحول میں پاکستان کو پیٹرول، بجلی اور گیس کی مقامی قیمتوں کو لاگت کے مطابق برقرار رکھنا ہوگا، جبکہ غریب اور کمزور طبقے کو ہدفی امداد فراہم کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط بنانا، سرکاری اداروں کی نجکاری اور کاروباری ماحول میں غیر ضروری رکاوٹوں اور ضوابط کے خاتمے جیسی ساختیاتی اصلاحات کو مزید گہرا کرنا ہوگا، پاکستان سے متعلق عالمی مالیاتی ادارے کے تخمینوں میں کہا گیا ہے کہ 2027 میں جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہنے، 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے مساوی بنیادی بجٹ سرپلس حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر جون 2026 تک 17.5ارب ڈالر تک پہنچنے اور افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔اشیائے ضروریہ کی بلند اور غیر مستحکم عالمی قیمتوں کے ماحول میں توانائی کے شعبے کی مالی حالت میں حالیہ بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی مقامی قیمتیں اصل لاگت کے مطابق رکھی جائیں، جبکہ کمزور ترین صارفین کو ہدفی امداد فراہم کی جائے۔ اخراجات میں کمی اور نااہلیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھنے سے توانائی کے شعبے کی پائیداری محفوظ ہوگی اور پاکستان کی مسابقت میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ افراطِ زر دوبارہ بڑھ کر 8.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر جون 2026 تک 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت دوسرے جائزے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور 22 کروڑ ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں گے۔ اس طرح دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پاکستانی حکام نے اصلاحاتی پروگرام پر مضبوطی سے عمل درآمد کیا، جس سے معاشی استحکام برقرار رہا اور بیرونی مالی حالات بہتر ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے جھٹکے اس بات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان مضبوط معاشی پالیسیوں کو جاری رکھے اور پائیدار ترقی کے لیے ساختیاتی اصلاحات کو تیز کرے۔پالیسی ترجیحات میں معاشی استحکام برقرار رکھنا، سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا، مسابقت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ، سماجی تحفظ اور انسانی وسائل کو بہتر بنانا، سرکاری اداروں (SOEs) کی اصلاحات، عوامی خدمات میں بہتری اور توانائی کے شعبے کی بحالی شامل ہیں۔آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کا 37 ماہ پر مشتمل EFF پروگرام، جس کی منظوری 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی، معیشت کو مستحکم بنانے اور پائیدار ترقی کو ممکن بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا۔