*اسٹبلشمنٹ اور افواج پاکستان معاشی دہشتگردی کو روکیں*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور افواج پاکستان ریاست کیساتھ وفاء تحفظ اور خدمت کا حق تو ادا کرتی رہی ہے مگر اندرونِ ملک خطرناک ترین معاشی دہشتگردی کی روک تھام پر چپ سادھ لی آخر کیوں؟؟ افواج پاکستان کے سپاہی سے لیکر جنرل تک تمام کے تمام علوم دین سے آراستہ ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ روئے زمین پر ریاست پاکستان کا وجود ایک خاص مقصد کے تحت ھے وہ ھے ریاست میں قرآن و سنت کا نظام رائج ہونا۔ اس پاک سر زمین کو غیر نہیں بلکہ اسی سر زمین میں موجود ناسوروں نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ سیاستدان ہوں یا حکمران ہر دور میں سوائے قومی خذانے کی لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ ستر سے شروع ہونے والا جمہوری سفر نے جو نظام ریاست اور عوام کا بیڑا غرق کیا کسی بھی ملک میں نہ ایسا ہوتا دیکھا گیا اور سنا گیا۔ ایک خاص نظام جسے جمہوریت کہتے ہیں اس میں عدالتوں کا کردار ہمیشہ سے ناکارہ بدکار اور پھپوند زدہ رھا ھے یہی وجہ ھے کہ وطن عزیز پاکستان میں کسی عام شہری کو انصاف نہیں مل سکا۔ تھانے جرائم کی فیکٹریاں اور تقرریاں سیاسی بنیادوں پر فروخت کی جاتی رہی ہیں۔ منشیات سے لیکر انسانی اسمگلنگ اور گداگری مافیاء کا فروغ بھی اسی سیاسی نظام کی پشت پناہی کے سبب پڑوان چڑھا ھے۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا بہانہ بناکر جس قدر عوام کو مہنگے پیٹرول سمیت انتہاء کی مہنگائی میں جھونک دیا یہ آپ جنرلز سے پوشیدہ نہیں جبکہ جہاں براہ راست جنگ جاری ھے وہاں مہنگائی یا معاشی تنزلی نظر نہیں آتی جبکہ ملک پاکستان کو کسی بھی جانب سے رکاوٹ کا سامنا نہیں رھا ھے اور امریکہ ہو یا ایران آبنائے ہرمز سے راستہ کھلا رکھا گیا لیکن پھر بھی جھوٹ مکارپن دھوکہ و فریب کے عادی حکمران و وزیر نے پیٹرول کی قیمت سے پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا ھے دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے 11 ارب کا جہاز اور اربوں مالیت کا روزانہ قومی بوجھ صرف اپنی عیاشی اور جھوٹی شان کیلئے قائم رکا ھے یہی تسلسل چاروں وزراء کا بھی ھے پھر بھی افواج پاکستان اور اسٹبلشمنٹ خاموش۔ کراچی کو بجلی پانی گیس جوکہ زندگی کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں ناپید کرکے رکھ دیا اور اس قدر مہنگی کہ دشمن بھی ایسا رویہ اختیار کرتے دس بار سوچے۔ یہاں عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتے اگر سمجھتے تو انسانی حقوق کا ضرور خیال رکھتے۔ کراچی کی کوئی گلی محلہ علاقہ ایریا کی شاہراہ ایسی نہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔ ہر سو ابلتے گٹر اور غلاظت جیسے تقدیر میں لکھ دی گئی ھو۔ اسٹبلشمنٹ اور افواج پاکستان کے جنرلز بلخصوص فیلڈ ماشل اگر سمجھتے ہیں کہ یہ عوام انکی ہے تو خدارا سب سے پہلے تمام کے تمام حکمرانوں سیاستدانوں اور ٹائیکونوں کی مافیائی زہر کو کچل دیں اور نظام کی تبدیلی کو یقینی بنائی کیونکہ اس نظام جمہوریت نے ملک کو مقروض در مقروض ہی رکھا ھے۔ پاکستانی محصولات کا آڈٹ کرا کر عوام کے سامنے پیش کریں اور آئی ایم ایف سے قرض کا استعمال اور واپسی کا طریق بھی طلب کرلیں ساتھ ساتھ آئی پی پیز کی حقیقت اور اسکی چور بازاری کو بھی بےنقاب کیا جائے تاکہ پاکستانی عوام جان سکے کہ جنہیں وہ اپنا محسن اپنا رہنما اپنا قائد اپنی بقاء و سلامتی اپنی خوشحالی دیکھتے تھے وہی کس قدر اس عوام کے قاتل و جابر ہیں۔ اسٹبلشمنٹ اور جنرلز نے بنا تاخیر عوام کے ان دکھ درد کو محسوس نہ کیا اور ظالمین کی گردن نہ نوچیں تو عوام بھی آپ کو انکے ساتھ کھڑا تصور کرے گی۔ پاکستان ھے تو ھم سب ہیں پاکستان نہیں تو آپ اور ھم بھی نہیں البتہ یہ اشرفیہ ایلیٹ جماعت ملک سے باہر بھاگ جائیگا مزید تاخیر سے کسی کو نہیں البتہ عوام کا جینا محال رہیگا۔ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انساں کو، ورنہ کم نہ تھے عبادت کیلئے کروبیاں ۔۔۔۔!!