17

پنوعاقل میں مبینہ زیادتیوں اور جھوٹے مقدمات کے خلاف احتجاج، متاثرین نے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کر دیا

پنوعاقل میں مبینہ زیادتیوں اور جھوٹے مقدمات کے خلاف احتجاج، متاثرین نے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کر دیا

سکھر(بیورورپورٹ)پنوعاقل کے سلطان پور کینٹ تھانے کی حدود میں باتي چوک کے قریب واقع گاؤں راڻو فقیر محمد راجپوت کے رہائشیوں نے کینٹ پولیس اور پہوڑ برادری کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پولیس اور بااثر افراد کی جانب سے انہیں جھوٹے مقدمات، ہراسانی اور زیادتیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ضلع سکھر کے قصبہ پنوعاقل کے سلطان پور کینٹ تھانہ علاقے میں واقع گاؤں راڻو فقیر محمد راجپوت کے مکینوں نے آج احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کینٹ پولیس اور پہوڑ برادری کے بااثر افراد مل کر ان کے خلاف زیادتیوں، جھوٹے مقدمات اور ہراسانی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ متاثرہ افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تفصیلات بتائیں۔محسن راجپوت، محمد افضل راجپوت، دانو راجپوت، عرفان، اکرام اور دیگر متاثرہ افراد نے بتایا کہ چند روز قبل پہوڑ برادری کے افراد کے اونٹ ان کی زرعی زمینوں میں موجود کھڑی فصلوں اور کھجور کے باغات میں گھس آئے، جس سے لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ جب انہوں نے پہوڑ برادری کے افراد کو نقصان سے آگاہ کیا تو مبینہ طور پر عبدالرزاق، عطا محمد، امان اللہ، بشیر، حاجی پہوڑ اور دیگر نے مسلح افراد کے ہمراہ ان پر حملہ کر دیا۔حملے کے نتیجے میں افضل راجپوت، محسن راجپوت، دانو راجپوت سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے واقعے کی اطلاع کینٹ تھانہ پولیس کو دی، لیکن پولیس نے ان کی فریاد سننے کی بجائے مبینہ طور پر بااثر افراد کا ساتھ دیتے ہوئے الٹا ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔احتجاج کرنے والوں نے کینٹ تھانہ کے انچارج اشرف ڦلپوٹو، ہیڈ محرر قاضی، جوناس چوکی کے انچارج محمد حسن سميجو اور دیگر اہلکاروں پر الزام عائد کیا کہ یہ اہلکار مبینہ طور پر رشوت لے کر ان کی شکایات نظرانداز کر رہے ہیں۔ مزید برآں، زخمیوں کو اب تک میڈیکل لیٹر بھی جاری نہیں کیا گیا۔متاثرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے دو رشتہ داروں کو بغیر کسی جواز کے گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ پولیس روزانہ ان کے گھروں پر چھاپے مار کر خواتین اور دیگر گھر والوں کو ہراساں کر رہی ہے۔راجپوت برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہوڑ برادری کے بااثر افراد پولیس کی سرپرستی میں انہیں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ متاثرین کا موقف ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے شدید خدشات کا شکار ہیں۔متاثرہ افراد نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف، وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی سکھر ریجن اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں، گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں