21

سب ڈویژن اولڈ سکھر کے باہر ہائیڈرو یونین مزدوروں کا درد بھرا احتجاج تھکے ہارے محنت کش انصاف کے منتظر

سب ڈویژن اولڈ سکھر کے باہر ہائیڈرو یونین مزدوروں کا درد بھرا احتجاج تھکے ہارے محنت کش انصاف کے منتظر

سکھر(بیورورپورٹ)شالیمار پر واقع سب ڈویژن اولڈ سکھر کے دفتر کے سامنے اس وقت ایک دردناک منظر دیکھنے میں آیا جب ہائیڈرو یونین گھوٹکی سرکل کے محنت کش اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج بن گئے مزدوروں نے دفتر کی تالا بندی کر کے کام چھوڑ ہڑتال کی اور دفتر کے باہر بیٹھ کر اپنے دکھ درد سناتے رہے۔ تھکے چہروں،نم آنکھوں اور پریشان حال مزدوروں کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل ناانصافیوں، جبری ڈیوٹیوں اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔احتجاج کی قیادت جاوید احمد عباسی، عقیل احمد دایو،عبدالخالق ساوند اور عابد گوپانگ کر رہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں مزدور ان کے شانہ بشانہ موجود رہےمظاہرین نے کہا کہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بجائے ان سے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام لیا جا رہا ہے،جس سے ان کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں مزدوروں کا کہنا تھا کہ مسلسل ڈیوٹیوں کے باعث نہ وہ اپنے بچوں کو وقت دے پا رہے ہیں اور نہ ہی سکون کی نیند نصیب ہو رہی ہےمظاہرین نے افسردہ لہجے میں بتایا کہ وہ بجلی کی بحالی اور عوامی خدمت کے لیے دن رات میدان میں رہتے ہیں مگر افسوس کہ انہی محنت کشوں کے ساتھ ناانصافی اور سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہےانہوں نے الزام عائد کیا کہ اے سی گھوٹکی سرکل کی جانب سے ان کے مسائل سننے کے بجائے مزید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔سب ڈویژن اولڈ سکھر کے دفتر کے باہر بیٹھے مزدوروں نے “ہمیں انصاف دو”،“جبری ڈیوٹی نامنظور” اور “مزدور دشمن پالیسی ختم کرو” کے نعرے لگائےفضا مزدوروں کی آہوں اور احتجاجی نعروں سے گونجتی رہی جبکہ کئی مزدور شدید ذہنی دباؤ کے باعث انتہائی دل گرفتہ دکھائی دیےہائیڈرو یونین رہنماؤں نے دوٹوک اعلان کیا کہ جب تک ان کےجائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاج اور کام چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ محنت کشوں کے ساتھ انصاف کیا جائے کیونکہ یہی مزدور سخت گرمی بارش اور مشکل حالات میں عوام کو بجلی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں