7

عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی نیشنل پریس کلب سامارو کے صدر ڈاکٹر ایم لال

عمرکوٹ رپورٹ بیوروچیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی

نیشنل پریس کلب سامارو کے صدر ڈاکٹر ایم لال واگھانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمرکوٹ اور سامارو سمیت کئی علاقوں کے اسکولوں میں داخلہ فارم بھرتے وقت بچوں کے نام، والد کا نام، تاریخِ پیدائش اور دیگر کوائف درج کرنے میں ایسی غلطیاں حرف غلط، کہیں عمر میں فرق، تو کہیں اردو اور انگلش اسپیلنگ کی لاپرواہی — اور پھر یہی غلطیاں بعد میں بی فارم، سرٹیفکیٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات میں مستقل مسئلہ بن جاتی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں نہ ریکارڈ سنبھالنے کی تربیت دی گئی اور نہ ہی ذمہ داری کا احساس۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غفلت والدین کے لیے دفاتر کے چکر، ذہنی اذیت اور اضافی اخراجات کا سبب بن جاتی ہے۔
دوسری جانب نادرا جیسے حساس اداروں میں بھی اگر میرٹ کے بجائے سفارش اور تعلقات کو ترجیح دی جائے تو وہاں بھی عوام کو ریلیف کے بجائے پریشانی ہی ملتی ہے۔ عام شہری صبح سے شام تک قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، صرف اس لیے کہ کسی نے اپنی ڈیوٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
تعلیم صرف کتاب پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ بچوں کا درست ریکارڈ محفوظ کرنا بھی ایک قومی ذمہ داری ہے۔
ایک استاد کی معمولی لاپرواہی بچے کے مستقبل میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، اور ایک سرکاری اہلکار کی بے احتیاطی عوام کے اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکولوں اور متعلقہ اداروں میں تربیت یافتہ، ذمہ دار اور میرٹ پر بھرتی ہونے والے افراد تعینات کیے جائیں تاکہ والدین کو ذلت، پریشانی اور دفاتر کے بے مقصد چکروں سے نجات مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں