ہارون آباد(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)شخصیت: پروفیسر مدثر احمد ( گورنمنٹ کالج بہاول نگر / آئیکون اکیڈمی، بہاولنگر)
کچھ لوگ شہر کی پہچان ہوتے ہیں اور کچھ ادارے شہر کی رسم و راہ بدل دیتے ہیں۔ بہاولنگر میں جب کمپیوٹر کی تعلیم ایک خواب تھی، تب 07-2005 میں آئیکون اکیڈمی نے کمپیوٹر کی تعلیم کے دروازے یہاں کے طلبہ پر کھولے۔ مگر اس ادارے کی اصل روح وہ شخص ہے جسے میں نے پہلی بار متحرک و متجسس انداز میں پڑھاتے دیکھا جس کی آواز کا زیرو بم ایک ہی سطح پر تھا ۔اس کے ہاتھ کی بورڈ سے ہوتے ہوئے ماوس اور پھر وہاں سے کھلی کتاب کی سطروں پر سرعت اور تیزی سے آتے جاتے۔
ناٹا سا قد مگر پھرتیلا جسم، چہرے پر سجی مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک، قدم یوں رکھتے گویا ہاکی کا پلئیر ڈاج دے کے بھاگنے کو جارہا ہو— یہ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے شہر کے معروف تعلیمی شخصیت ماسٹر علی شیر صاحب کے صاحبزادےپروفیسر مدثر احمد خان ہیں۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ صرف استاد نہیں، بلکہ ایک شفیق بڑے بھائی کی طرح طلبہ میں گھلے ملے رہتے ہیں۔ کبھی ان کی باتیں سنتے، کبھی انہیں کمپیوٹر کی پیچیدگیاں سمجھاتے، اور کبھی پڑھانے کے بعد انہیں کھلاتے پلاتے پائے جاتے۔ ان کا یہ ’خادمانہ‘ مزاج ہی انہیں ایک عام ایڈمنسٹریٹر سے جدا کر کے ایک سچا ’معلم‘ بناتا ہے۔ مدثر صاحب نے اپنے رویے اور عمل سے بہت سے دل جیتے جن کی گنتی بھی اب ممکن نہیں ہاں ان کی یاد میں آج بھی چہرے جھلملاتے ہیں۔
بہاولنگر کی تعلیمی تاریخ میں اگر آج جدید ٹیکنالوجی کا تذکرہ ہے، تو اس میں پروفیسر مدثر جیسے مخلص دوستوں کا پسینہ شامل ہے۔ خوش اخلاقی اور کام سے لگن کا اگر کوئی مجسمہ دیکھنا ہو، تو مدثر صاحب کی شخصیت ایک بہترین مثال ہے۔
مدثر صاحب کی شخصیت کا ایک رخ نہایت دلچسپ اور مزاح سے بھرپور بھی ہے ۔
خوش اخلاقی، زندہ دلی اور کام سے ایسی لگن رکھنے والےمدثر صاحب کی مہمان نوازیوں کا ذکر بہت ضروری ہے کیوں کہ ایک یا دو عشرے نہیں گزرتے اور وہ دعوت کر گزرتے ہیں ہر دعوت کھلانے پر برتن سمیٹنا بھی کوئی ان سے سیکھے گویا زوجہ نے کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ گھر داری بھی سکھا رکھی ہے ۔ مدثر صاحب جیسے دوست زندگی کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت ہم دوستوں کے حلقے کی وہ رونق ہے جو کبھی ماند نہیں پڑتی۔ ویسے سر کو شہر کی پرانی روح کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیوں کہ اک استاد ہونے کی وجہ سے وہ ہر ایک کو اس کے خاندان کے زن و مرد سمیت جانتے ہیں اسی حوالے سے
دل چسپ واقعہ سنئیے
اک ضروری کام کے سلسلے میں مجھے ان کے ساتھ آرمی کالج بہاول پور جانا ہوا وہاں کے پرنسپل کرنل رینک کے تھے انہوں نے ہمیں آفس بلایا اور چائے پیش کی تو مدثر صاحب نے کہا کہ آپ مجھے دیکھے دیکھے لگتے ہیں تو وہ گویا ہوئے جی میں بہاول نگر رہا ہوں اور ہاکی کھیلتا رہا بس پھر کیا یادوں کی پٹاری کھل گئی ان کے رشتے داروں کا ذکر تسبیح سے گرتے موتیوں کی طرح ہونے لگا اور کرنل صاحب کے دوستوں کا بھی جز و کل کہنے لگے اور تو اور دوستوں کی بیویوں تک کا پتا تھا کہ کون کس کے گھر ہے اور کس نے کون کون سی ڈگری لے رکھی ہے۔ اسی اثنا میں مدثر صاحب نے کرنل صاحب کے سسرال کا بھی پوچھا تو وہ گھبرا ہی گئے کہ کہیں میری
منکوحہ کو بھی نہ جانتے ہوں۔ اس کے بعد جان بوجھ کر انھوں نے گفتگو کا دھارا بدل کر تعلیمی اور سماجی کر دیا۔
مدثر صاحب خوش ذوق’ با وفا دوستوں کے دوست مشکل وقت میں کام آنے والے انسان ہیں اور بہاول نگر جیسے علاقے کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی دینے والے اولین پروفیسرز میں شامل ہیں ۔ان کی خدمات کو ان کی طلبا و طالبات سراہتے ہیں عموما سرکاری اداروں میں ان سے پڑھے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہو جاتی ہے جو اس بات کی غمازی ہے
کہ ان کے لگائے ہوئے پودے توڑ چڑھے ہیں ۔
خدا پاک ایسے اساتذہ کو عمر خضر عطا فرمائیں۔آمین تحریر: پروفیسر اظہر حادث
میرپورخاص (شاھد میمن) *میرپورخاص چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر اورموجودہ
نورپور تھل (راجہ نورالٰہی عاطف سے) تحصیل نورپور تھل میں نئی تعینات ہونے والی اسسٹنٹ کمشنر شازیہ
ٹھٹھہ (رپورٹ) دعا نیوز عبدالعزیز شیخ پاکستان دفاع ونگ ٹھٹھہ کے چیئرمین سید سعید حسین شاہ الطاف شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے
ٹھٹھہ (رپورٹ)۔ دعا نیوز عبد العزیز شیخ ٹھٹھہ کی دیہہ سونہرتی میں محکمہ آبپاشی کی
جیکب آباد (نامه نگار)تحریک لبیک پاکستان پی ایس 1 کی طرف سے جیو نیوز کی گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا