17

سکھر (بیورو رپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی): ضلع نوشہروفیروز کے علاقے مورو میں پسند کی شادی کے بعد پیدا ہونے والے تنازع اور مبینہ خطرے کی

سکھر (بیورو رپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی): ضلع نوشہروفیروز کے علاقے مورو میں پسند کی شادی کے بعد پیدا ہونے والے تنازع اور مبینہ خطرے کی صورتحال پر متاثرہ فریقین نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست کے مطابق درخواست گزار مہک دختر ریاض حسین، زوجہ نوید، سابقہ رہائشی بھٹائی ٹاؤن مورو اور موجودہ رہائشی سیال موری مورو، جبکہ ان کے شوہر نوید ولد علی اکبر، رہائشی سیال موری مورو، نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
درخواست میں صوبائی اداروں کو فریق بنایا گیا ہے جن میں حکومت سندھ بذریعہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کراچی، ایس ایس پی ضلع نوشہروفیروز، ایس ایچ او پولیس اسٹیشن مورو اور کیس نمبر 198/2026 کے تفتیشی افسر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نجی شخص محمد سومر ولد ریاض تماچی، رہائشی وارڈ نمبر 4 سید محلہ مورو کو بھی بطور جوابدہ نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پسند کی شادی کے بعد انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کے باعث ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو بھی جھوٹا اور انتقامی اقدام قرار دیا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزاروں کو فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، پولیس کو ہدایت جاری کی جائے کہ انہیں کسی قسم کی ہراسانی کا نشانہ نہ بنایا جائے، اور معاملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔
درخواست گزاروں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر متعلقہ حکام سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں