17

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر۔اسٹیپ فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن میڈم شائستہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ میں سرکاری

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سکھر۔اسٹیپ فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن میڈم شائستہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے سنگین صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ 5 سے 15 تک کی نوکریوں کے لیے گزشتہ چار سالوں کے دوران (آئی بی اے) ٹیسٹ پاس کرنے والے ہزاروں نوجوان آج بھی روزگار کے منتظر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں میڈم شائستہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ان ٹیسٹوں کے ذریعے حکومت سندھ نے نوجوانوں سے اربوں روپے فیس کی مد میں وصول کیے، تاہم اس کے باوجود میرٹ پر کامیاب امیدواروں کو تاحال ملازمتیں فراہم نہیں کی جا سکیں، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کے پاس نوکریوں کی کمی نہیں تو پھر اہل اور کامیاب امیدواروں کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں نوکریاں نوجوانوں کو تلاش کر رہی ہیں۔ شائستہ بلوچ نے کہا کہ اگر واقعی ایسا ہے تو گریڈ 5 سے 15 کے وہ نوجوان کہاں جائیں جو باقاعدہ ٹیسٹ پاس کر چکے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے تقرری کے منتظر ہیں۔انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کامیاب امیدواروں کو میرٹ پر نوکریاں فراہم کی جائیں تاکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور مایوسی کا خاتمہ ہو سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو متاثرہ نوجوان احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں