114

نوابشاہ (بیورو رپورٹ)دوڑ میں ریلوے اراضی پرپبلک پارک کی توسیع قیام اور دیکھ بھال کے لئے مذید

نوابشاہ (بیورو رپورٹ)دوڑ میں ریلوے اراضی پرپبلک پارک کی توسیع قیام اور دیکھ بھال کے لئے مذید اراضی لیز پردرکار،ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے لینڈ لیز چارجز ادا کرنے پر رضامندی،ٹاؤن آفیسر اور صدر ویلفیئر کمیٹی دوڑ کی جانب سے ریلوے حکام کو لیٹر ارسال تفصیلات کے مطابق چیئرمین ٹاؤن کمیٹی دوڑ چوہدری وسیم افضل راجپوت کی ہدایت پر ٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ لئیق حسین زرداری اور ویلفیئر کمیٹی دوڑ کے صدر انور عادل خانزادہ نے وفاقی وزیر ریلویز،سیکریٹری ریلویز،چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلویز،ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ ریلویز لاہور،ڈویژنل سپرٹنڈنٹ ریلویز سکھر،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھر اور اسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ریلویز نوابشاہ کو دوڑ میں ریلوے اراضی پرپبلک پارک کی توسیع قیام اور دیکھ بھال کے لئے مذید اراضی لیزپر دینے کے لئے لیٹر ارسال کردیئے ہیں،اور اس سلسلے میں لینڈ لیز چارجز ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے،بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے20/06/2025کوٹاؤن آفیسر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کولیٹر No.473-W/Park/Dour/SUK ارسال کیا گیا(کاپی منسلک ہے)جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر / سینئر جنرل منیجر پاکستان ریلویز کی منظوری اور ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈ کوآرٹر لاہور کے دستخط سے دوڑمیں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے 119680 اسکوائر فٹ اراضی کی لینڈ لیز چارجز کی رقم 6,156,869/-کی رقم بتائی گئی تھی،جوکہ مکمل رقم ٹاؤن کمیٹی دوڑ نے ادا کردی ہے،چیئرمین ٹاؤن کمیٹی دوڑ چوہدری وسیم افضل راجپوت نے بتایا کہ پہلے پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے پبلک پارک کے لئے 260100 اسکوائر فٹ(چھ ایکڑ)اراضی دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی،مگرڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈپاکستان ریلویز سکھر نے اس پلان پر ریلویز کوآرٹرز کی وجہ سے اعتراضات عائد کرکے اراضی کم کرکے 119680 اسکوائر فٹ(پونے تین ایکڑ)اراضی کا پلان بنایا،جبکہ پانچ ایکڑ اراضی کا پلان بنانا چاہئے تھا،اور اپ ریلوے ٹریک سے 120 فٹ کا فاصلہ رکھ کر119680اسکوائر فٹ اراضی دینے کے بجائے تین سو پچتھر فٹ کا فاصلہ رکھ کر119680 اسکوائر فٹ ناکارہ،گندے پانی کے تالاب اور ایک ایکڑ سے زائد اراضی پر پختہ قبضے،اور مکانات پر مشتمل اراضی دی گئی،جسکے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو گندے پانی کے تالاب کو ختم کرنے کے لئے مٹی کی بھرائی کے لئے لاکھوں روپے کے اضافی اخراجات کرنے پڑ رہے ہیں چھ ایکٹر اراضی کے پلان میں اپ ریلوے ٹریک سے 120 فٹ کا فاصلہ رکھا گیا تھا،شہریوں کو بہترین تفریحی سہولت کی فراہمی اور ایک تاریخی پبلک پارک کے قیام کے لئے موجودہ دی گئی اراضی ناکافی ہے،اور ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو مذید اراضی درکار ہے،اس مقام پر پبلک پارک کا قیام پاکستان ریلویز اور عوام دونوں کے مفاد میں ہے،پبلک پارک کے قیام سے ریلوے اراضی غیرقانونی قبضے سے بھی محفوظ رہے گی،برسات میں یہ علاقہ مکمل پانی میں ڈوب جاتا ہے،جسکے سبب ریلوے ٹریک بھی زیر آب آجاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے، عوامی بھلائی کے اس منصوبے سے ماحول میں بھی بہتری آئے گی،چیئرمین ٹاؤن کمیٹی دوڑچوہدری وسیم افضل راجپوت نے پاکستان ریلویز حکام سے مطالبہ کیاہے کہ ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو اپ ریلوے ٹریک سے 120 فٹ کا فاصلہ کرکے پبلک پارک کی اراضی میں مذید توسیع کرتے ہوئے اراضی دی جائے،جسکے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ تمام لینڈ لیز چارجز بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں