11

سکھر پریس کلب میں انٹیلیجنس بیورو کے ریٹائرڈ و بحال شدہ ملازمین کی پریس کانفرنس، 29 سالہ جدوجہد کے بعد بھی پنشن و مالی حقوق سے محرومی پر دہائی

سکھر پریس کلب میں انٹیلیجنس بیورو کے ریٹائرڈ و بحال شدہ ملازمین کی پریس کانفرنس، 29 سالہ جدوجہد کے بعد بھی پنشن و مالی حقوق سے محرومی پر دہائی

سکھر(بیورورپورٹ)انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کے ریٹائرڈ اور بحال شدہ ملازمین نے اپنے بنیادی حقوق، پنشن، سروس اسٹرکچر اور مالی مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان، عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔پریس کانفرنس سے چوہدری مختیار، خادم حسین دہاریجو، خدا بخش گاد، شمس الدین سانگهرو، ولی محمد سہتو اور سکندر ساریو نے خطاب کیا۔پریس کانفرنس کے دوران ملازمین نے نہایت افسوس کے ساتھ اپنے ساتھی ریٹائرڈ انسپکٹر انٹیلیجنس بیورو انور علی لغاری کے انتقال کی اطلاع دی، جو گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ مقررین نے بتایا کہ مرحوم انور علی لغاری نے ادارے میں 15 برس تک باقاعدہ خدمات انجام دیں، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے مالی فوائد اور پنشن کی حسرت لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحوم زندگی کے آخری ایام شدید مالی پریشانی اور کسمپرسی میں گزارنے پر مجبور رہے، جو ادارہ جاتی ناانصافی کی ایک دردناک مثال ہے۔مقررین نے کہا کہ وہ انٹیلیجنس بیورو کے وہ ریٹائرڈ اور بحال شدہ ملازمین ہیں جو گزشتہ 29 برس سے اپنے جائز سروس حقوق، پنشن اور سروس اسٹرکچر کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 1996 میں سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں بطور انسپکٹر بھرتی کیا گیا تھا، تاہم 1997 میں سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں 2009 میں صدرِ پاکستان کے جاری کردہ ایس آر او کے تحت انہیں بحال کیا گیا، جسے بعد میں پارلیمنٹ نے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ریگولرائزیشن ایکٹ 2010 (SERA Act 2010) کے ذریعے آئینی تحفظ فراہم کیا۔ تاہم 2021 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک فیصلے کے تحت مذکورہ ایکٹ کو کالعدم قرار دیا، جس کے بعد انسانی حقوق کی بنیاد پر دائر اپیل میں عدالت عظمیٰ نے ان ملازمین کی بحالی برقرار رکھی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملازمین نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار برس گزر جانے کے باوجود انٹیلیجنس بیورو انتظامیہ عدالتی احکامات کی من پسند تشریح کرتے ہوئے انہیں مکمل مالی مراعات، پنشن، سینیارٹی اور بقایاجات سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود متعلقہ محکمہ کی جانب سے غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث متاثرہ ملازمین اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔انہوں نے ادارے میں مبینہ دوہرے معیار اور کھلی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بحال شدہ ملازم دورانِ سروس انتقال کر جائے تو اس کے اہل خانہ کو 100 فیصد پنشن اور تمام مراعات فراہم کی جاتی ہیں، لیکن اگر وہی ملازم ریٹائر ہو جائے تو اسے صفر فیصد پنشن دی جاتی ہے۔ مقررین نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت دیے گئے مساوی حقوق کی صریح خلاف ورزی نہیں؟ملازمین نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 264 کے تحت آرڈیننس کے ذریعے حاصل شدہ سروس فوائد کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور پبلک سروس کمیشن کے نام پر ملازمین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 2009 سے 2026 تک کے تمام بقایاجات، سینیارٹی، پنشن اور دیگر مالی مراعات فوری طور پر ادا کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک ریٹائرڈ افسر کو نوازنے کے لیے تین سالہ توسیع دی جا سکتی ہے تو وہ ملازمین جو برسوں سے اپنے جائز حقوق کے منتظر ہیں، انہیں ان کا آئینی و قانونی حق کیوں نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف چند ملازمین کا مسئلہ نہیں بلکہ درجنوں خاندانوں کی بقا، عزت اور مستقبل کا سوال ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرہ ملازمین نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر، چیف جسٹس آف پاکستان اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ ملازمین کو ان کے قانونی، آئینی اور مالی حقوق بلا تاخیر دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر بروقت انصاف فراہم نہ کیا گیا تو مزید خاندان معاشی تباہی کا شکار ہوں گے اور مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں