15

امریکا سے زیادہ پاکستان پر اعتماد ۔۔۔

امریکا سے زیادہ پاکستان پر اعتماد ۔۔۔
عالمی منظر نامے پر ہلچل ، پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ طے پانے والا ہے ۔۔۔۔
ستمبر 2025 میں دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد، قطر نے اپنی سیکیورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ایک باقاعدہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے (Defence Pact) کے لیے مذاکرات تیز کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ قطر کے لیے روایتی امریکی تحفظ سے ہٹ کر ایک نئی “دفاعی دیوار” ثابت ہو سکتا ہے۔
قطر کا نیا دفاعی پلان: امریکہ سے ہٹ کر پاکستان پر بھروسہ
دفاعی ماہرین کے مطابق، قطر اب صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے دفاعی شراکت داروں میں اضافہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔
اسرائیلی حملے کا سبق: ستمبر 2025 میں دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے نے قطر کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ محض امریکی اڈوں (العدید بیس) کی موجودگی مستقل امن کی ضمانت نہیں۔
پاکستان کا کلیدی کردار: پاکستان کے پہلے ہی 650 سے زائد فوجی اہلکار قطر میں تربیتی اور مشاورتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اب اس موجودگی کو ایک باقاعدہ “ریپڈ رسپانس فورس” (Rapid Response Force) میں بدلنے پر غور ہو رہا ہے
سعودی ماڈل کی پیروی: ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے “باہمی دفاعی معاہدے” نے قطر کے لیے بھی ایک راستہ کھول دیا ہے، جہاں ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا
خفیہ مذاکرات اور اربوں ڈالر کی امداد
اگرچہ باقاعدہ اعلان ابھی باقی ہے، لیکن پسِ پردہ بہت کچھ ہو رہا ہے
دوارب ڈالر کا پیکج: دفاعی حلقوں میں یہ بازگشت ہے کہ اس معاہدے کے بدلے قطر پاکستان کو دو ارب ڈالر کی معاشی امداد فراہم کر سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے موجودہ معاشی حالات میں ایک بڑی لائف لائن ہوگی خاموش سفارت کاری قطر میں ترکیہ اور امریکہ کے فوجی اڈے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے پاکستان کسی نئے خود مختار بیس کے بجائے قطری تنصیبات کے اندر ہی اپنی موجودگی کو خاموشی سے وسعت دے گا تاکہ سفارتی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے
نیوکلیئر شیڈو (Nuclear Shadow) ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت ہونے کی حیثیت قطر کے لیے ایک “نفسیاتی ڈھال” کا کام کرتی ہے، جو کسی بھی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے تجزیہ: کیا ‘کمپنی کی مشہوری’ خلیج میں نیا رنگ لائے گی؟ پاکستان کا فٹ بال ورلڈ کپ 2022 کے دوران 4500 فوجی بھیجنا قطر کے اعتماد کی پہلی بڑی سیڑھی تھی۔ اب یہ رشتہ محض ٹریننگ سے نکل کر “باہمی دفاع” تک پہنچ رہا ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب اپنی سیکیورٹی کے لیے مغرب کے بجائے پاکستان جیسے آزمودہ اور جنگی مہارت رکھنے والے برادر اسلامی ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
آپ کے خیال میں کیا پاکستان اور قطر کا یہ دفاعی اتحاد خطے میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں