غزل گو شاعر،بہترین استاد،بے مثل انسان شہزاد واثق
وہ دن بھی عام دنوں جیسا ہی ایک عام دن تھا،لیکن کچھ دن عام ہو کے بھی بہت خاص ہو جاتے ہیں،آپ صحیع سمجھے وہ دن میرے لیے خاص اس لیے بن گیا کہ میں اس دن اردو کے ایک بڑے شاعر سے ملی،ان سے بات چیت اور شاعری میں اصلاح کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری تھا،میری نظموں کی چار کتابیں چھپ کے آ چکی تھیں،پانچویں غزلوں کی کتاب شایع کروانے سے پہلے میں کتاب کو کسی اعلی پاے کے غزل گو شاعر کو دکھانا چاہتی تھی اور مجھے شہزاد واثق سے بڑھ کے کوی دوسرا شاعر اپنے گرد و نواح میں دکھای نہ دیتا تھا.تو میں غزلوں کا مسودہ اٹھا کے بہنوں والے مانکے ساتھ واثق بھای کے گھر جا پہنچی جہاں انہوں نے اپنے خااندان کے سو مسایل سمیٹتے ہوے مجھے چند منٹوں میں غزلوں کو وزنمیںکرنے کاتیر بہدف نسخہ پیش کر دیا اور اسی نسخے کی روشنی میں میں نے اپنی غزلوں کی نوک پلک سنوار لی. ان کا اصل نام شہزاد نسیم حیدر ہے، وہ انیس سو چوہتر کو ضلع گو جرانوالہ کے ٹاون اروپ میں پیدا ہوے،ابتدای تعلیم تربیلہ کے علاقے میں حاصل کی،کیوں کہ ان کے والد صاحب ملازمت کے سلسلے میں تربیلہ میں مقیم تھے،شہزاد نسیم حیدر نے بہت ہی چھوٹی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا،اور پہلا مشا عرہ سولہ سال کی عمر میں پڑھا،اردو غزل ان کا مستند حوالہ ہے،نہ صرف غزل بے سا ختگی سے کہتے ہیں بلکہ پوری دنیا میں ان سے اصلاح لینے والے شاگرد موجودہیں،جن میں پاکستان،انڈیا،انگلینڈ،خلیجی ممالک اور امریکہ میں سینکڑوں لوگ شہزاد واثق سے اصلاح لے رہے ہیں.غزل ان کا اوڑھنا بچھوناہی نہیں ان کے دل کی آواز بھی ہے، شعوراور لا شعور کے سفر میں خود داری،انا،غیرت اور حمیت جیسے دبنگ جذبے ان کی شاعری کا وصف خاص ہیں اور یہی آن ،بان اور شان ان کا خاص طرہ امتیاز ہے،جسے وہ بڑی چاہ اور مان سے اپنی غزلوں میں بیان کرتے دکھای دیتے ہیں،شعر دیکھیے گا.
میں نے شاہوں کی کبھی مدح سرای نہیں کی
شعر بس شعر رہے مرثیہ خوانی نہ لگے
زخم دل اس لیے ناسور نہیں بن پایا
ہم نے کوشش کی اسے آنکھ کا پانی نہ لگے
وہ انتہای سادہ الفاظاور خوب صورت طرز بیا ں میں بنا قاری کو کسی امتحان میں ڈالے اپنی قلبی واردات،احساسات و جذبات کو فنی مہارت اور ادبی ذکاوت کے ساتھ صفحہ قرطاس پہ عرصہ دراز سے بکھیرتے چلے آ رہے ہیں،اپنی معصومیت اور بھول پن کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں…
زندگی اتنی مختصر کب تھی
ہم نے جینا ہی دیر سے سیکھا
اور رسم دلداری کو نباہنے کی ادا تو دیکھیے
اپنی آنکھوں میں سر بزم چھپا کر آنسو
اس کی دلداری کو سو بار ہنسا ہوں میں بھی
اور امید کے دییے کو روشن رکھنے کی ترغیب کچھ یوں دیتے ہیں
یہ ضروری نہیں تعبیر سبھی کو مل جاے
اپنی آنکھوں میں مگر خواب سجاے رکھنا
اور حکمرانوں کو یوں للکارتے ہیں
آزادی میں ہم لوگ غلاموں سے ہیں بدتر
حاکم تیری بدلی ہوی زنجیر پہ تف ہے
اور دوستوں کی بے رخی اور بے وفای پہ یوںنوحہ کناں ہیں
مجھے شکست کا الزام بہت پیارا تھا
میں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے ہارا تھا
یہ چند اشعار ہیں جن کا حوالہ میں نے دیا ،شہزاد واثق شاعر تو بہت بڑے ہیں ہی مگر وہ انسان بہت بڑے ہیں،جھوٹ فریب اور مکر سیاست سے کوسوں دور شہزاد واثق جنہیں میں بڑے مان سے شہزاد بھای کہتی ہوں نے بچیس سال پاکستاناییر فورس میں ملازمت کی،اس سلسلہ ہاے روزگار میں وہ کوہاٹ،کامرہ،کراچی،سرگودھا، راولپنڈی اور کیی دوسرے شہروں میں تعینیات رہے. ان کا پہلا شعری مجموعہ یقین واثق ،عنقریب شایع ہونے والا ھے. آج کل وہ اپنی دوسری آنے والی کتاب پہ کام کر رہے ہیں. میری پہلی کتاب عشق جاوداں کی تقریب کے مہمان خصوصی بننے والے شاعر شہزاد واثق ایک اچھے شوہر،ماں سے محبت کرنے والے بیٹے،بچوں کے لاڈ اٹھانے والے باپ اور بہنوں کے مددگار بھای ہیں،غزلوں کے اوزان کا تیر بہدف نسخہ واثق بھای نے مجھے منٹوں میں سکھا دیا تھا. شکریہ شہزاد واثق بھای صاحب،اللہ پاک آپ کو صحت،خوشحالی اور ایمان کے ساتھ عمر خضر عطافرماے آمین ثم آمین.
عہد حاضرکے بہت بڑے اور اعلی پاے کے شاعر جناب فرحت عباس شاہ کا،جناب شہزاد واثق صاحب کے لیے بے لاگ اور خوب صورت خراج تحسینان الفاظمیں
شہزاد واثق استاد شاعر ہیں. ان کی شاعری کی سب سے نمایاں خوبی ان کی فنی پختگی اور لسانی احتیاط ہے. وہ حقیقی موضوعات کے شاعر ہیں. ان کی غزل،انسانی،سماجی زندگی کے گھمبیر مسایل کو شاعرانہ خیال میں ڈھالنے کا لطیف پیرایہ ہے.
فرحت عباس شاہ
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnamnaureen@gmail.co.
ٹرمپ کا امریکہ کو ایران کے سامنے ذلیل کرنے پر جرمنی پر غصہ
نورپورتھل (راجہ نورالہی عاطف سے) کسان کارڈ کے تحت قرضہ کی رقم بروقت جمع کروانے پر قرعہ اندازی
تعلیم کا روشن سفر — ضلع خوشاب میں داخلہ مہم کا آغاز خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
ہارون آباد/(نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)ہارون آباد کے نواحی گاؤں میں غریب محنت کش کے گھر میں
ہارون آباد (نمائندہ خصوصی سٹی رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور وائٹل گروپ میں مفاہمتی