تھوڑا عرصہ پہلے مرحوم ایرانی صدر نے پبلک ایڈریس کی خواہش کی تھی جسے حکومت پاکستان نے مسترد کر دیا تھا. اب زاکر نائیک صاحب مینار پاکستان سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں جلسے کرنے آ رہے ہیں. مطلب “Pakistan is back on track”.
تھوڑا عرصہ پہلے مرحوم ایرانی صدر نے پبلک ایڈریس کی خواہش کی تھی جسے حکومت پاکستان نے مسترد کر دیا تھا. اب زاکر نائیک صاحب مینار پاکستان سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں جلسے کرنے آ رہے ہیں. مطلب “Pakistan is back on track”.
ڈاکٹر صاحب کے اغراض و مقاصد کا پتہ نہیں مگر یہ کافی بڑی لانچنگ ہے. اور یہ یقیناً سٹیٹ سپانسرڈ بھی ہے. خدا خیر کرے کافی مماثلت نظر آ رہی ہے ضیاء دور اور آج کے دور میں. فرقہ واریت کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب سے کوئی تعصب یا بعض والی بات نہیں. میں کوئی فرقہ پریکٹس نہیں کرتا اور ذاتی طور پر نہ کسی آیت اللہ کا حامی ہوں نہ کسی نائک مفتی مجتہد کا.
مجھے تو سیدھا سادا دین پسند ہے. وہ دین جو میں اور میرے ہم عمر بچپن میں اپنے بزرگوں سے سیکھ چکے ہیں. وہ دین جس میں ہر روز کوئی سکالر آپ کو یہ نہیں بتاتا تھا کہ چودہ سو سال سے کسی کو فلاں فلاں باتیں پتہ ہی نہیں تھیں.
سارے تضادات اور ماضی کی فلموں کو یاد کر کے ایسا ہی لگ رہا ہے کہ جیسے ہم کسی نئی مہم کی تیاری میں ہیں. کسی نئی شکل کے جہادی دور میں واپس جانے والے ہیں.
ویسے کیا ہی اچھا ہوتا اگر ریاست زاکر نائک یا کسی شیعہ بریلوی دیوبندی اہلحدیث عالم کی بجائے اگر سعودی شہزادے کو ان تینوں جگہوں پر خطاب کرنے کی دعوت دیتی. ایسا ہوتا تو میں ضرور سننے جاتا. وہ ماڈریٹ بندہ ہے. مجھے وہ پسند ہے. لوگ سمجھ نہیں رہے مگر وہ عرب دنیا میں بنا کسی شور شرابے کے انقلاب لا چکا ہے!