*سرگذشت ،،، آصف مہار* تبدیلی کا کوئی وقت معین نہیں
*سرگذشت ،،، آصف مہار*
تبدیلی کا کوئی وقت معین نہیں
کچھ لوگ مشرقی جرمنی کے طرف سے دیوار برلن پر آتے ہیں اور وہاں موجود باڈر گارڈز سے الجھنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ مغربی جرمنی کی طرف جانے والا گیٹ کھولا جائے، سیکورٹی گارڈز یہ سن کر ہنسا شروع کر دیتے ہیں اور اس پر توجہ ہی نہیں دیتے، اسے دیکھا دیکھی اردگرد گھومنے پھرنے والے لوگ بھی وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کا ساتھ دینا شروع کر دیتے ہیں
باڈر سیکورٹی گارڈز مزاحمت کرتے ہیں اور اسی کشمکش میں دیوار کے اردگرد سے اور لوگ بھی آ جاتے ہیں اور وہ دیوار برلن پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، باڈر گاڈرز انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی دوران یہ خبر برلن شہر میں پہنچتی ہے اور وہاں سے سینکڑوں پھر ہزاروں پھر پانچ لاکھ لوگ دیوار برلن پر پہنچ جاتے ہیں اور اسے گرانا شروع کر دیتے ہیں اور اسے گرا کر ہی دم لیتے ہیں، دیوار کے گرتے ہی لوگ دیوانہ وار مغربی جرمنی کی طرف بھاگتے ہیں، وہ دیوار جس کو Iron curtain کہا جاتا تھا جس نے جرمنی کو تیس سال تقسیم کئے رکھا وہ دیوار چند لوگوں کی جرآت سے زمین بوس ہو جاتی ہے
دیوار برلن گرنے کی دیر تھی کہ مشرقی یورپ کی ایک کے بعد ایک کیمونسٹ گورنمنٹ تہہ و بالا ھونا شروع ھو گئی حتی کہ روس کے بھی درجنوں ٹکڑے ھو گئے
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تبدیلی کے حالات ضرور ھوتے ہیں لیکن یہ پتا لگانا کہ تبدیلی کب آئی گی کن وجوہات اور کن واقعات کے ظہور پذیر ہونے سے آنے گی یہ ممکن نہیں