علم و ادب کی سرمایہء افتخار — میڈم منزہ انور گوئندی
خصوصی تحریر: راجہ نور الہی عاطف
سرگودھا کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب، خدمت اور خلوص کی امین رہی ہے۔ اسی دھرتی نے بے شمار ایسی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے اپنے کردار، فکر اور عمل سے نہ صرف اپنے شہر بلکہ پورے معاشرے کو روشنی بخشی۔ انہی درخشاں ستاروں میں ایک نام میڈم منزہ انور گوئندی کا بھی ہے، جو کسی تعارف کی محتاج نہیں بلکہ خود اپنی پہچان ہیں۔
یہ ایک خوبصورت روایت کا تسلسل ہے کہ جہاں ایک باوقار باپ نے اپنی زندگی علم و ادب کے چراغ روشن کرنے میں گزاری، وہیں ان کی بیٹی نے اس روشنی کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے مزید پھیلا دیا۔ میڈم منزہ انور گوئندی اس روایت کی ایک مثالی صورت ہیں—ایک ایسی بیٹی، جو اپنے والد کے نام کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے۔
اگر ان کی شخصیت کو لفظوں میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ بیک وقت کئی جہتوں کی حامل ہیں۔ ادبی میدان میں ان کی حیثیت ایک ایسے روشن باب کی مانند ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ بطور رائٹر، ان کی تحریریں فکری گہرائی، جذبے کی شدت اور زبان کی لطافت کا حسین امتزاج ہیں، جبکہ ان کی شاعری دلوں کو چھو لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سماجی خدمات کے میدان میں ان کا کردار نہایت منفرد اور قابلِ تقلید ہے۔ وہ بنا کسی نمود و نمائش کے خاموشی سے خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی ایک فریضہ ہے، نہ کہ تشہیر کا ذریعہ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل فلاحی سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہیں اور ضرورت مندوں کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں۔
بطور براڈ کاسٹر، ان کی آواز ایک جادو رکھتی ہے—ایک ایسا سحر جو سننے والوں کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ مختلف موضوعات پر ان کی گفتگو نہ صرف معلوماتی ہوتی ہے بلکہ دلنشین بھی، اور یہی ان کی اصل پہچان ہے۔ ادبی پروگرام ہو یا سماجی مسائل، وہ ہر موضوع پر اپنی گرفت اور اندازِ بیان سے سامعین کو متاثر کرتی ہیں۔
اگر ان کی شخصیت کو انسانی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک باوقار، بااخلاق اور مخلص انسان کا عکس ابھرتا ہے۔ ان کی مسکراہٹ میں خلوص کی چمک اور ان کے رویے میں اپنائیت کی گرمی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہر محفل کی رونق ہیں اور ان کی موجودگی کسی بھی اجتماع کو مکمل بنا دیتی ہے۔
میڈم منزہ انور گوئندی نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرونِ ملک بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کی شخصیت ایک ایسی روشنی ہے جو سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر ہر دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے بارے میں لکھنا گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ وہ دلوں پر راج کرنے والی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی قدر ہر جگہ کی جاتی ہے اور جن کی موجودگی خود ایک اعزاز ہے۔









