ملک محمد عاصم جسرا کی بطور ایس ایس پی پروموشن
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
قوموں کی ترقی میں وہ افراد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو اپنے فرائض کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ایسے ہی قابل اور محنتی افسران میں ایک نام ملک محمد عاصم جسرا کا بھی ہے، جنہیں حال ہی میں ایس ایس پی کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف ان کی ذاتی محنت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ قابلیت کا اعتراف ہے بلکہ ضلع خوشاب کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔
ملک محمد عاصم جسرا کی یہ کامیابی کسی ایک دن کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ ان کی مسلسل جدوجہد، لگن اور فرض شناسی کا نتیجہ ہے۔ پولیس جیسے حساس اور مشکل شعبے میں اپنی شناخت بنانا آسان نہیں ہوتا، مگر انہوں نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور عزم مضبوط ہو تو ہر مشکل کو عبور کیا جا سکتا ہے۔
آئی جی پنجاب کی جانب سے ان کے کندھوں پر نئے رینک سجانے کی تقریب محض ایک رسمی کارروائی نہیں تھی بلکہ یہ اس بات کا عملی اظہار تھا کہ محکمہ پولیس اپنے بہترین افسران کی خدمات کو تسلیم کرتا ہے۔ اس موقع پر موجود سینئر افسران نے جس طرح ان کی صلاحیتوں اور خدمات کو سراہا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک محمد عاصم جسرا اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمیشہ نمایاں رہے ہیں۔
اپنی سروس کے دوران انہوں نے جرائم کے خاتمے، امن و امان کے قیام اور عوامی خدمت کے میدان میں جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ایسے افسران ہی عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا پل بنتے ہیں، اور یہی اعتماد کسی بھی معاشرے میں پائیدار امن کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ترقی کے بعد ان کا یہ کہنا کہ یہ اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے، ان کی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ شعور کو ظاہر کرتا ہے۔ درحقیقت، اعلیٰ عہدے صرف اختیارات نہیں بلکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ایک بڑی امانت ہوتے ہیں، جنہیں دیانتداری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبھانا ضروری ہے۔
آج جب معاشرہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں ملک محمد عاصم جسرا جیسے افسران کی موجودگی امید کی ایک روشن کرن ہے۔ ان کی ترقی نوجوانوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ محنت، ایمانداری اور لگن سے نہ صرف ذاتی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں بلکہ قوم و ملک کی خدمت کا فریضہ بھی بخوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔
اہلِ علاقہ، دوست احباب اور مختلف سماجی و صحافتی حلقوں کی جانب سے ملنے والی مبارکبادیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف ایک کامیاب افسر بلکہ ایک قابلِ احترام شخصیت بھی ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ ترقی ایک نئی شروعات ہے—ایک ایسا سفر جس میں ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں مگر توقعات بھی بلند ہو گئی ہیں۔ امید ہے کہ ملک محمد عاصم جسرا اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انصاف، دیانت اور خدمت کے اس سفر کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کریں گے۔