6

ڈاکٹر ایم لال واگھانی صدرِ نیشنل پریس کلب سامارو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سامارو میں کاپی کلچر: ذمہ دار کون؟

ڈاکٹر ایم لال واگھانی صدرِ نیشنل پریس کلب سامارو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
سامارو میں کاپی کلچر: ذمہ دار کون؟
سامارو میں آج کل کاپی کے معاملے پر ہر کوئی اپنی اپنی بات کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے سندھ میں یہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کاپی کے لیے ایک پورا نظام پہلے سے تیار ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک طالب علم کا قصور کتنا بنتا ہے؟ اگر ہم زمینی حقائق دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف طالب علم کا نہیں بلکہ پورے نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو اچھی طرح تیار کیا جائے، انہیں سمجھ کے ساتھ پڑھایا جائے تاکہ ان کے ذہن سے کاپی کا رجحان خود بخود ختم ہو۔ لیکن بدقسمتی سے جب امتحانات قریب آتے ہیں تو سارا دباؤ صرف طالب علم پر ڈال دیا جاتا ہے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کیا ان بچوں کی تیاری مکمل کروائی گئی ہے؟
ایک طرف سرکاری اساتذہ اپنے بچوں کو بہترین پرائیویٹ اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں، جبکہ غریب کا بچہ سرکاری اسکول میں اپنے مستقبل کی امید لیے بیٹھا ہوتا ہے۔ یہاں سہولیات کا واضح فرق نظر آتا ہے، اور یہی فرق ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔
طالب علم ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے: اگر کاپی کرے تو پکڑا جاتا ہے، اور اگر نہ کرے تو کمزور تیاری کی وجہ سے اپنا کیریئر خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ نتائج خود گواہی دیتے ہیں کہ کاپی کرنے والوں اور ایمانداری سے امتحان دینے والوں کے درمیان کتنا فرق آ جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اگر کاپی کروائی جائے تو بھی دباؤ، اور اگر نہ کروائی جائے تو بھی دباؤ—ایسے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طالب علم ہی ہوتا ہے۔
ہم اکثر بند کمروں میں بیٹھ کر تنقیدی مضامین لکھ دیتے ہیں، مگر کیا ہم نے یہ سوچا ہے کہ ہم خود بھی اسی کاپی کلچر کی پیداوار ہیں؟ سچ یہ ہے کہ ہم نے کئی ایسے افراد دیکھے ہیں جو آج بڑے عہدوں پر فائز ہیں مگر ان کی بنیاد بھی اسی کمزور نظام پر رکھی گئی تھی، اور آج وہی لوگ کاپی کے خلاف سخت بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ کاپی کی کھلی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لیکن اس مسئلے کو حد سے زیادہ اچھالنے کے بجائے اس کی جڑ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
دوستوں کو چاہیے کہ صرف برائیاں نہیں بلکہ اچھائیاں بھی سامنے لائیں، اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مسئلہ صرف کاپی کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔ جب تک تعلیمی نظام کو بہتر نہیں بنایا جائے گا، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عادتیں بدلنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں—بشرطیکہ ہم اصلاح کا آغاز نظام سے کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں