12

فکرِ اقبال کی تجدید: یومِ وفات پر ایک بامعنی تقریب خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

فکرِ اقبال کی تجدید: یومِ وفات پر ایک بامعنی تقریب

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول ظفر آباد رنگپور بگھور میں شاعرِ مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کے یومِ وفات کی مناسبت سے منعقدہ پروقار تقریب نے اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کیا کہ عظیم شخصیات جسمانی طور پر رخصت ضرور ہو جاتی ہیں، مگر ان کے افکار ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ یہ تقریب نہ صرف اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ نئی نسل کو ان کے پیغام سے روشناس کرانے کی ایک مؤثر کوشش بھی ثابت ہوئی۔
تقریب کی صدارت ہیڈ ماسٹر ملک عابد اقبال نے کی جبکہ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ملک محمد امتیاز نسیم بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ نظامت کے فرائض ملک محمد خالد ندیم راہداری نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے، جس سے تقریب کا ماحول مربوط اور پُراثر رہا۔
تقریب کا سب سے دلکش پہلو طلبہ کی بھرپور شرکت تھی۔ ننھے طلبہ نے کلامِ اقبال پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔ ان کی پُرجوش آوازوں میں اقبال کے اشعار سننا اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ فکرِ اقبال آج بھی نئی نسل کے دلوں میں جگہ بنا رہی ہے۔ حاضرین کی جانب سے ملنے والی بھرپور داد نے طلبہ کے حوصلے مزید بلند کیے۔
مقررین ملک جبار اقبال اعوان اور محمد شہزاد بھٹی نے اپنے خطابات میں علامہ اقبال کی شاعری، فلسفہ اور قومی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقبال کا پیغام محض ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ خودی، اتحاد اور عمل کا درس آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
مہمانِ خصوصی ملک محمد امتیاز نسیم نے اپنے خطاب میں اقبال کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے مسلمانوں کو اپنی شناخت پہچاننے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کا درس دیا۔ ان کا پیغام ہمیں مایوسی سے نکال کر امید، محنت اور خود اعتمادی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اقبال کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ ایک مضبوط اور باوقار قوم کی بنیاد رکھی جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر ملکی ترقی، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری تعلیمی سرگرمیاں صرف علمی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور قومی شعور کی بیداری کا بھی ذریعہ ہیں۔
یقیناً ایسی تقاریب ہمارے تعلیمی اداروں میں فکری بیداری اور قومی شعور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اقبال کا پیغام آج بھی زندہ ہے—ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اپنائیں اور اپنی زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں