نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ) نواب شاہ میں مبینہ پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ارشد بھٹی کی بیوہ 4 معصوم یتیم بچوں کے ہمراہ دوروز سے پریس کلب کے باہر انصاف کی بھیک مانگ رہی ہے لیکن تھانہ کلچر اور وڈیرہ شاہی کے گٹھ جوڑ نے مظلوموں کی آواز دبا دی ہے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر ورثاء کا لاش کی تدفین سے انکار۔ قانون کے محافظوں کی سفاکیت نے ایک اور ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا شہداد پور سے تعلق رکھنے والے ارشد بھٹی کو محض چند روز قبل حراست میں لیا گیا تھا اور اس کی مسخ شدہ لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ورثاء کا دل دہلا دینے والا الزام ہے کہ لاک اپ میں نوجوان کے ناخن پلاس سے کھینچے گئے ٹانگیں اور پسلیاں توڑی گئیں اور بدترین انسانیت سوز سلوک کے بعد اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیااس اندھیر نگری کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ گزشتہ دوروز سے ایک بیوہ اور اس کے چار یتیم بچے پریس کلب نواب شاہ کے باہر لاش رکھے بیٹھے ہیں مگر کسی ایک پولیس افسر نے ان کی دادرسی کی زحمت نہیں کی مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ بااثر شخصیات اور ارکانِ اسمبلی کے دباؤ کے باعث پولیس فریادی، ایس ایچ او شہداد پور اور ایس ایچ او بی سیکشن کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے گریزاں ہے ورثاء کادوسرے روز بھی دہرنا جاری رہا ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے گرفتار کیا جائے اور خلاف ایف آئی آر درج کی جائے،سندھ ترقی پسند پارٹی کے مرکزی نائب صدر نثار کیریو اور پی پی پی شہید بھٹو کے رہنما رئیس میاں خان رند سمیت دیگر کارکنوں کے ہمراہ دہرنے میں شرکت ورثاء کے مطالبات کی حمایت ،پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]