*پاکستان کے خلاف ایک اور اسرائیلی کا مضمون*
*اردو کا ایک محاورہ ہے چھاج تو چھاج چھلنی بھی بولے جس میں ہزار چھید! یہی کچھ حالت ہمیشہ سے ہی اسرائیل کی ہے! لاکھوں فلسطینیوں کی نسل کشی، غزہ کو راکھ کا ڈھیر بنا کر، لبنان، شام اور ایران پر نا جائز حملے کرنے کے بعد اسرائیل سمجھا کہ وہ اپنے پڑوسی عرب ممالک کے علاوہ پورے خطے اور عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک سپر پاور کے طور پر منوا چکا ہے! اسے لگا کہ اس کی ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی سے دنیا بھر کی اقوام ہپناٹائزڈ ہو کر اسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گی یا ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے خاموشی سے سر جھکائے کھڑی رہیں گی!*
*لیکن! یہ ظلم اور نہتے اقوام کی آہ و بکا اسرائیل کیلئے دنیا بھر میں رسوائی کا وہ پیغام لائی کہ تمام تر چالاکیوں اور اپنی deception کی صلاحیتوں پر فخر کرنے والے اسرائیل کو اس وقت شدید سفارتی تنہائی کا سامنا ہے! اٹلی، ہنگری اور اسپین میں اسرائیلی حمایت کا کریا کرم تو ہوا ہی ہے، بلکہ خود امریکی جیوری اور امریکن ریبپلیکن کیلئے بھی اسرائیل کی وکالت آسان نہیں رہی! رد عمل کے طور پر اب اسرائیل ہڑ بڑا کر کسی پر یہودیوں کی نفرت، کسی پر anti-Semitism اور کسی پر صیہونیت کی مخالفت کا الزام عائد کرتا پھر رہا ہے! گویا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے!*
*اسرائیلی سفارتکاروں اور تجزیہ نگاروں کو اب کہیں پاؤں رکھنے کی جگہ نظر نہیں آ رہی تو کبھی پاکستان اور کبھی ترکی پر فضول قسم کے اور بھونڈے آرٹیکلز لکھ کر اپنی فرسٹریشن دور کرنے کی کوشش میں لگے ہیں! امریکہ-ایران جنگ بندی ہونے کے بعد تو اسرائیلی حکام اور تجزیہ نگاروں کی توپوں کا رخ بڑے مسلم ممالک کی طرف ہونے کا شدید امکان ہے! وہ وقت دور نہیں جب مسلم دنیا اسرائیل کو بتائے گی کہ وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے! نیو ورلڈ آرڈر کی چوہدراہٹ کی آس اور گریٹر اسرائیل کا خواب سب کافور ہوتے نظر آئیں گے! ان شاء اللہ!*