12

سکھر سینئر اسٹینوگرافر ایاز حسین قاضی کو معمولی جھگڑے میں تھانے میں رکھا گیا، اہل خانہ نے انصاف کی اپیل کر دی

سکھر سینئر اسٹینوگرافر ایاز حسین قاضی کو معمولی جھگڑے میں تھانے میں رکھا گیا، اہل خانہ نے انصاف کی اپیل کر دی

سکھر (بیورورپورٹ)ضلع سکھر کے تھانہ تمّاچانی میں ایک سینئر سرکاری ملازم کو گزشتہ رات سے لاک اپ میں رکھے جانے کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سکھر کے سینئر اسٹینوگرافر ایاز حسین قاضی کو ایک معمولی نوعیت کے جھگڑے کے بعد حراست میں لے لیا گیا، جس پر ان کے اہل خانہ اور ورثاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ورثاء کے مطابق یہ تنازع ایاز حسین قاضی کے چھوٹے بھائی اور اے ڈی سی ٹو سکھر میڈم بشریٰ منصور کے گارڈ اللہ ڈنو قاضی کے بیٹے کے درمیان پیش آیا۔ دونوں نوجوانوں کی عمریں 15 سے 20 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ یہ معمولی تکرار ایک ہی علاقے میں رہائش پذیر قریبی رشتہ داروں کے درمیان ہوئی، جہاں پہلے سے کچھ معمولی اختلافات موجود تھے۔ورثاء کا کہنا ہے کہ اس معمولی جھگڑے کے باوجود ایاز حسین قاضی کو پوری رات تھانے میں بٹھائے رکھا گیا اور انہیں اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا مؤقف ہے کہ واقعے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور اسے ڈکیتی کا رنگ دے کر ایک مبینہ جھوٹا مقدمہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ایاز حسین قاضی کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ رات سے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم دوسرا فریق کسی بھی قسم کی مفاہمت پر آمادہ نہیں ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں فریق آپس میں رشتہ دار ہیں، اس لیے معاملہ خاندانی نظام کے تحت حل ہو سکتا تھا، لیکن بظاہر اسے قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔متاثرہ خاندان نے متعلقہ حکام اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ایاز حسین قاضی کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک معمولی خاندانی جھگڑے کو بنا کسی سنگین وجہ کے سنگین بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک سرکاری ملزم کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فی الحال تھانہ تمّاچانی پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ایاز قاضی کے اہل خانہ نے فوری رہائی اور منصفانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں