سوشل میڈیا پر وائرل ڈکیتی کی خبر جھوٹی، پولیس نے حقیقت واضح کر دی
سکھر(بیورورپورٹ)سوشل میڈیا پر تھانہ تماچانی کی حدود میں مبینہ ڈکیتی اور تشدد کے حوالے سے تیزی سے گردش کرنے والی خبر بے بنیاد نکلی ہے۔ سکھر پولیس نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ واقعہ کوئی ڈکیتی نہیں بلکہ ذاتی جھگڑے کا نتیجہ ہے۔سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے شہری عامر قاضی سے ڈکیتی کے دوران دو لاکھ روپے نقد اور موبائل فون چھین کر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس خبر کے پھیلتے ہی ایس ایس پی سکھر اظہر خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ تماچانی کو جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعہ کی مکمل انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ عامر قاضی کے ساتھ کسی قسم کی ڈکیتی کی واردات پیش نہیں آئی۔ تفتیشی افسر کے مطابق، یہ واقعہ دراصل نعیم قاضی نامی شخص کے ساتھ ذاتی جھگڑے پر پیش آیا، جس دوران نعیم قاضی کو سر پر لاٹھی لگنے سے معمولی چوٹ آئی۔ پولیس نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں نہ تو کوئی مالی ڈکیتی ہوئی ہے اور نہ ہی عامر قاضی نامی کسی شہری سے کوئی رقم یا موبائل فون چھینا گیا۔سکھر پولیس نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اس خبر کی واضح الفاظ میں تردید کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی خبر کی تصدیق متعلقہ پولیس ذرائع سے ضرور کریں۔ ایس ایس پی سکھر نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔عوام سے گزارش ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی گردش کرنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے شیئر نہ کریں اور پولیس کے جاری کردہ سرکاری بیانات پر ہی اعتماد کریں۔









