سکھر بورڈ کے نویں، دسویں جماعت کے امتحانات میں نقل کا انکشاف
سکھر بورڈ کے نویں، دسویں جماعت کے امتحانات میں نقل کا انکشاف
خصوصی ٹیموں کی رپورٹ جاری، 3 روز میں 929 کیسز سامنے آگئے
چیئرمین ٹیم کی نگرانی میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ، بعض افسران کی کارکردگی صفر قرار
سکھر (بیورورپورٹ)سکھر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت نویں اور دسویں جماعت کے جاری امتحانات کے دوران نقل کے درجنوں واقعات سامنے آنے کے بعد بورڈ کی خصوصی ٹیموں کی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں امتحانی مراکز پر نقل کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سکھر بورڈ کی جانب سے قائم کی گئی مختلف خصوصی ٹیموں نے 30 مارچ سے یکم اپریل تک امتحانی مراکز کے دورے کیے اور مجموعی طور پر نقل کے 929 کیسز رپورٹ کیے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف امتحانی مراکز میں نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات ناکافی ثابت ہوئے جبکہ متعدد مقامات پر نقل کرنے والے طلبہ کے خلاف کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین ٹیم کی نگرانی میں سب سے زیادہ نقل کے کیسز رپورٹ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت نگرانی اور مؤثر چیکنگ کے نتیجے میں نقل کے واقعات کی نشاندہی ممکن ہوئی۔دوسری جانب رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بعض افسران اور ٹیموں کی کارکردگی صفر رہی، جبکہ متعدد ٹیم ممبران اپنے دوروں کے دوران ایک بھی نقل کیس رپورٹ نہ کر سکے، جس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا یہ ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں درست طور پر نبھا رہی ہیں یا بعض مقامات پر جان بوجھ کر چشم پوشی کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کئی امتحانی مراکز پر امتحانی ماحول کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹیموں کی نگرانی مزید سخت کی جائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔اس حوالے سے چیئرمین تعلیمی بورڈ سکھر کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے بورڈ کی کوششیں جاری ہیں اور نقل کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کو منصفانہ بنانے کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے اور نقل میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ امتحانات کے دوران نقل کے بڑھتے واقعات نہ صرف تعلیمی معیار پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام کی ساکھ کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں، جس کے باعث والدین اور تعلیمی حلقوں میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔