October 18, 2026

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے اہم سکھر–شکارپور روڈ پر واقع نثار صدیقی ٹاؤن کے علاقے میں سکھر

IMG-20260407-WA0256

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے اہم سکھر–شکارپور روڈ پر واقع نثار صدیقی ٹاؤن کے علاقے میں سکھر انتظامیہ کے زیرِ نگرانی جاری گرین منصوبے میں سنگین بے ضابطگیوں اور غفلت کا انکشاف ہوا ہے، جس پر شہریوں نے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گرین منصوبے کے تحت شجرکاری کا عمل جاری ہے، تاہم مقامی رہائشیوں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کام انتہائی ناقص اور غیر معیاری انداز میں کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ روڈ کی کھدائی مقررہ معیار کے مطابق کرنے کے بجائے محض ڈیڑھ فٹ تک محدود رکھی گئی ہے، جبکہ پودوں کے لیے مناسب اور زرخیز مٹی بھی استعمال نہیں کی گئی۔ نتیجتاً متعدد نئے لگائے گئے پودے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور سڑک کے کناروں پر گرنے لگے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں ہی اس قدر لاپرواہی برتی گئی تو مستقبل میں یہ پودے سوکھ جائیں گے اور پورا منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے، جس سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹھیکیدار اور متعلقہ افسران کی مبینہ ملی بھگت کے باعث کام میں شفافیت نظر نہیں آ رہی اور معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں نے گرین منصوبے کو “شہریوں کو دھوکہ دینے کے مترادف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے چلنے والے منصوبوں میں بدعنوانی ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سکھر شہر میں سرسبزی لانے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار ٹھیکیداروں و افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ شجرکاری جدید اور سائنسی طریقوں کے تحت کی جائے، مناسب کھدائی، کھاد اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور پودوں کی باقاعدہ دیکھ بھال کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔مزید برآں شہریوں نے آوارہ جانوروں کے مسئلے پر بھی شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالکان کی لاپرواہی کے باعث یہ جانور نئے لگائے گئے پودوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ سڑکوں پر آزادانہ گھومنے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے اور شہر میں جاری شجرکاری مہم کو بچانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ سکھر اور اس کے نواحی علاقوں میں ماحولیاتی بہتری اور سرسبزی کو یقینی بنایا جا سکے۔