ایران کی مستقل جنگ بندی کی تجویز ، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی کوششیں جاری۔
ایران کی مستقل جنگ بندی کی تجویز ، پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ثالثی کوششیں جاری۔
جنگ بندی دراصل دراصل ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ منظم ہونے اور طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ترجمان ایوانی وزارت خارجہ
تہران(نمائندہ مجاہد افغان)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کی جانب سے ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، ایران نے جنگ بندی کی ایک مجوزہ تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی وقفے کے بجائے جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پیش کی گئی جنگ بندی تجویز قابل قبول نہیں کیونکہ کسی بھی عقلمند شخص کے لیے ایسی صورتحال کو تسلیم کرنا ممکن نہیں، جنگ بندی دراصل ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے جس سے مخالف فریق کو دوبارہ منظم ہونے اور طاقت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کا مؤقف واضح ہے کہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے نہ کہ وقتی تعطل کا، ماضی کے تجربات کی روشنی میں صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایسی ٹھوس ضمانتیں درکار ہیں جو مستقبل میں جنگ کے دوبارہ آغاز کو روک سکیں، یہ ضمانتیں کسی بین الاقوامی ادارے کے بجائے اپنی دفاعی صلاحیت اور مؤثر جوابی کارروائی کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ جنگ بندی کا منصوبہ مختلف تجاویز میں سے ایک ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس کی منظوری نہیں دی،آپریشن ایپک فیوری بدستور جاری ہے۔وائٹ ہاؤس اہلکار نے مزید بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج ایک پریس کانفرنس کے دوران اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کریں گے، پاکستان، مصر اور ترکیہ کی جانب سے دونوں ممالک کو ایک ابتدائی ڈرافٹ بھی پیش کیا گیا ہے جس پر مشاورت جاری ہے۔