واقعۂ غدیر خم: تاریخی، شرعی اور فقہی جائزہ منگل 07 اپریل 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
واقعۂ غدیر خم: تاریخی، شرعی اور فقہی جائزہ
منگل 07 اپریل 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
1.تعارف
واقعۂ غدیر خم اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے، جو حجِ وداع کے بعد پیش آیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رسول اللہ ﷺ واپس مکہ کی طرف لوٹ رہے تھے اور ایک بڑی مسلم جماعت ساتھ تھی۔ مقام غدیر خم، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور راستہ ہے، جہاں پانی کا چھوٹا سا چشمہ یا وادی تھی۔
اس مقام پر حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ اٹھا کر فرمایا:
“مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهذا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ”
“جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔”
یہ بیان آج بھی شیعہ اور اہلِ سنت دونوں مکاتب فکر میں نقل ہوتا ہے، اگرچہ اس کی تشریح میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
2.قرآن کے تناظر میں غدیر خم
قرآن کریم میں غدیر خم کا براہِ راست ذکر نہیں، مگر بعض مفسّرین نے اسے سورۃ المائدہ، آیت 3 کے سیاق میں پیش کیا:
“آج میں نے تمہارا دین تم پر مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی۔”
اس آیت کے نزول کے وقت غدیر خم کا واقعہ پیش آیا، جسے بعض مفسّروں نے رسول ﷺ کی طرف سے دین کے مکمل ہونے کے اعلان کے ضمن میں سمجھا ہے۔ یہ وضاحت شیعہ اور بعض سنی مفسّرین میں ملتی ہے، جو اس واقعہ کی شرعی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
3.احادیث کی روشنی میں غدیر خم
غدیر خم کے واقعہ کی احادیث متعدد کتب میں مروی ہیں، جن میں شامل ہیں:
مسند احمد
سنن الترمذی
نسائی
ابن ماجہ
یہ روایات حضرت زید بن ارقمؓ اور دیگر صحابہؓ سے نقل ہوئی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ واقعہ متواتر کے قریب اور تاریخی اعتبار سے مستند ہے۔
3.1 مضمون حدیث
حضور ﷺ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ بلند کر کے فرمایا: “جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔”
اور دعا فرمائی:
“اللهم والِ من والاہ وعادِ من عاداہ…”
یہ الفاظ ولایت و محبت اور عقیدتی اہمیت کے حامل ہیں، جس پر مختلف مکاتب فکر نے اپنی تشریحات کی ہیں۔
4.آثار صحابہؓ
صحابہؓ نے اس واقعہ کو سنا، دیکھا اور نقل کیا۔
علامہ امینی نے کتاب الْغَدِیر میں نقل کیا ہے کہ 110 صحابہؓ اور تابعین نے اس واقعہ کی تصدیق کی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غدیر خم محض تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ صحابہؓ کی زندگیوں میں نمایاں اثر رکھنے والا واقعہ تھا۔
5.تاریخی حوالے
مختلف تاریخی کتب جیسے:
ابن ہنبل ،ترمذی، نسائی
ابن کثیر، ابن الاعثم
ابن عبد البر
میں اس واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔
بعض مورخین جیسے الطبری نے مختصر بیان کیا، جبکہ دیگر نے تفصیل سے ذکر کیا۔
6.فقہی اور شرعی اہمیت
شیعہ علماء:
غدیر خم کو ولایت و خلافت حضرت علیؓ کا اعلان سمجھتے ہیں اور اسے دین کا اہم شرعی اور عقیدتی مقام قرار دیتے ہیں۔
اہلِ سنت:
یہ واقعہ تسلیم کرتے ہیں، لیکن لفظ ‘مولا’ کو زیادہ تر دوستی، محبت اور احترام کے معنی میں لیتے ہیں، نہ کہ صریح خلافت کے اعلان کے طور پر۔
اہم نکتہ: اختلاف لفظ کے مفہوم پر ہے، وقوع پر نہیں۔
7.خلاصہ
1.غدیر خم واقعہ تاریخ اسلام کا مستند حصہ ہے۔
2.یہ احادیث، آثار صحابہ، اور تاریخی کتب میں واضح ہے۔
3.قرآن کریم کے سیاق میں اسے دین کے مکمل ہونے کے اعلان کے پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔
4.اختلاف صرف لفظ ‘مولا’ کی تعبیر اور فقہی نتائج میں ہے۔
5.اس واقعہ کی روشنی میں حضرت علیؓ کی اہمیت، مقام اور عقیدتی حیثیت واضح ہوتی ہے۔
الدعاء
یا اللہ تعالٰی مسلمانوں میں یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333