August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ام رباب کا کیس SSP Dadu قمر رضا جسکانی کے پاس تھا

FB_IMG_1775097213193
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

ام رباب کا کیس SSP Dadu قمر رضا جسکانی کے پاس تھا
جس نے شروعاتی تفتیش میں صرف تین لوگوں کا نام دیا تھا ایک موقعے پر قتل ہوا دو مفرور ہیں۔
اس حقیقت کو مدعی نے قبول نہیں کیا اور 17 گھنٹے کی تاخیر سے ایف آئی آر کروائی دو پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز، سردار خان چانڈیو ، برہان خان چانڈیو اور رائیس مل کے مالک میرے والد علی گوہر چانڈیو پر۔
قمر رضا جسکانی کو ان تینوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو کیس کی تفتیش ٹرانسفر کروائی SSP Hyderaba پیر محمد شاہ کے پاس کیوں کہ انکو اپنے مرضی کے ناموں کو چارج فریم کروانا تھا۔ پیر محمد شاہ نے میرے والد کو 28 دن سی۔آئی اے سینٹر حیدرآباد میں قید رکھا، تین دن تک ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کہ وہ کہاں ہیں؟؟ بعد میں ہمیں ان تک رسائی نہیں دی گئی، میرے والد صبح بلڈ پریشر کی ٹیبلیٹ لیتے ہیں انکو ادویات نہیں دی گئی، 36 گھنٹے میرے والد اور میرے چھوٹے بھائی اسداللہ کو بھوکا رکھا گیا، میرے بھائی اسداللہ جن پر کوئی مقدمہ نہیں تھا انکی رہائی کے لیے CIA Incharge اسلم لانگا نے ایک لاکھ روپیہ لیا تھا۔
پولیس نے میرے والد کسٹڈی میں ہونے کے باوجود ہمارے گھر پر ریڈ کیا، ہمارے تین ٹریکٹرز لے گئے، ہمارے باڑے سے پندرہ بھینسیں لے گئے حتی کہ پانی کا کولر اور جوتوں کی پالش تک لے گئے۔ ہمارے گھر کا گیٹ توڑا گیا، کمروں کے دروازے کھڑکیاں توڑی گئی، الماری، صندوق کے ڈھکن توڑ کر پھینکے گئے، گھر میں لگے شیشے جھومر توڑے گئے، گھر میں داخل ہونے پر انکے ہمراہ ایک بھی لیڈی پولیس موجود نہیں تھی، گھر میں موجود خواتین، چھوٹے بچوں کا کوئی خیال رکھا نہیں گیا، ان پر اسلحہ تانا گیا انکو دھمکیاں دی گئی۔

دوران تفتیش SSP Hyderabad پیر محمد شاہ نے میرے والد کو رات ایک بجے بلایا اور انکو اپنے پاس کرسی پر بٹھایا اور کہا مجھے آپ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، میں نے ساری معلومات لی ہے، آپ انتہائی شریف النفس انسان ہیں، آپ اس وقت اپنے گاؤں موجود تھے جائے وقوعہ سے 17 کلومیٹر دور تھے، جائے وقوعہ سے آپ کی موجودگی کا کوئی ثبوت مجھے نہیں ملا۔ لیکن میں آپ کو آزاد نہیں کرسکتا ہوں اور مجھے چارج شیٹ میں آپ کا نام دینا پڑرہا ہے, میرے اوپر بہت پریشر ہے۔۔

میرے والد نے جواباً انکو یہی کہا کہ سر جب آپ کو پتا ہے میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور پھر بھی مجھ پر لگے الزامات سے مجھے آزاد نہیں کررہے ہیں تو میرا مقدمہ بھی اللہ کی کورٹ میں ہے وہ چاہے گا تو مجھے انصاف ضرور ملےگا۔
بابا سائیں کو چالان کیا گیا، نو سال وہ جیل میں رہے، بغیر کسی میڈیکل یا دیگر سہولیات کے وہ جیل میں قید تھے۔
بالآخر اللہ تعالیٰ کے بے تحاشا فضل و کرم سے عدالت نے بابا سائیں کو باعزت بری کیا۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0