9

تہران کی ایک للکار، وائٹ ہاؤس میں سناٹا عالمی میڈیا چیخ اٹھا: امریکہ دباؤ میں، ایران بازی پلٹ چکا

تہران کی ایک للکار، وائٹ ہاؤس میں سناٹا
عالمی میڈیا چیخ اٹھا: امریکہ دباؤ میں، ایران بازی پلٹ چکا
وہ امریکہ جو دنیا کو حکم دیتا تھا، آج خود خبروں کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ حالیہ جنگی تناظر میں ایران نے ایک ایسا اسٹریٹجک دھچکا دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی دیواروں میں دراڑیں صاف سنائی دے رہی ہیں۔ یہ محض تجزیہ نہیں—یہ عالمی میڈیا کا فیصلہ ہے۔
CNN اپنی رپورٹ میں کھلے لفظوں میں مانتا ہے:
“The U.S. is struggling to control escalation with Iran.”
یعنی امریکہ اب حالات کو قابو میں رکھنے کے قابل نہیں رہا—یہ اعتراف ہے، تاویل نہیں۔
The Washington Post لکھتا ہے:
“Iran has forced Washington into a reactive posture.”
(ایران نے امریکہ کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے۔)
یہ وہ جملہ ہے جو امریکی غرور کے تابوت میں آخری کیل بن چکا ہے۔ طاقت وہ نہیں جو شور مچائے—طاقت وہ ہے جو مخالف کو ردِعمل پر مجبور کر دے۔ اور اس کھیل میں ایران آگے نکل چکا ہے۔
The Economist طنزیہ انداز میں سوال اٹھاتا ہے:
“What if deterrence no longer belongs exclusively to the United States?”
یہ سوال نہیں، خوف کی گونج ہے—کیونکہ جواب سب جانتے ہیں۔
یورپی میڈیا بھی پیچھے نہیں۔ Der Spiegel (جرمنی) صاف لکھتا ہے:
“Any war with Iran would be uncontrollable.”
یعنی جنگ چھیڑی گئی تو اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا—اور یہی بات امریکی صدر کو لرزا رہی ہے۔
ادھر Le Figaro (فرانس) امریکی قیادت کی ذہنی کیفیت پر پردہ اٹھاتا ہے:
“Washington wants to appear strong without paying the price of war.”
طاقت دکھاؤ، مگر قیمت مت چکاؤ—یہ کمزوری کی واضح علامت ہے۔
اور پھر Al Jazeera وہ بات کہہ دیتا ہے جو سب سوچ رہے ہیں:
“Iran is dictating the tempo of the conflict.”
(تصادم کی رفتار اب ایران طے کر رہا ہے۔)
یہی اصل دھماکہ ہے۔
جب رفتار دشمن طے کرے، تو انجام بھی وہی لکھتا ہے۔
حقیقت اب چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے:
امریکی صدر کی گھبراہٹ کسی ایک محاذ سے نہیں—
بلکہ اس نئے عالمی سچ سے ہے کہ
اب حکم واشنگٹن نہیں، توازنِ طاقت دیتا ہے۔
اور تہران نے یہ توازن اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔
یہ جنگ میدان میں کم،
اعصاب میں زیادہ لڑی جا رہی ہے—
اور عالمی میڈیا بتا چکا ہے کہ
اعصاب کی اس جنگ میں امریکہ پسپا ہے۔۔۔۔۔۔ ایران کی للکار، عالمی میڈیا کی گواہی: واشنگٹن دباؤ میں
عالمی طاقت کے زعم میں مبتلا واشنگٹن اس وقت شدید ذہنی و اسٹریٹجک دباؤ کا شکار ہے، اور اس حقیقت کی تصدیق اب ایران یا اس کے اتحادی نہیں بلکہ خود بین الاقوامی میڈیا کر رہا ہے۔ حالیہ جنگی کشیدگی میں ایران نے جس جرأت، ضبط اور اعتماد کے ساتھ ردِعمل دیا ہے، اس نے امریکی صدر کی سفارتی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوئی بے چینی کو عیاں کر دیا ہے۔
امریکی اخبار The New York Times اعتراف کرتا ہے کہ:
“Iran’s calibrated response has exposed the limits of U.S. power in the Middle East.”
(ایران کے نپے تلے ردِعمل نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طاقت کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔)
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ امریکی پالیسی کی ناکامی پر ایک فردِ جرم ہے۔ وہ امریکہ جو کبھی ایک فون کال پر حکومتیں گرا دیتا تھا، آج ایران کے ایک ممکنہ قدم سے پہلے دس بار سوچنے پر مجبور ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارہ BBC اپنی تجزیاتی رپورٹ میں لکھتا ہے:
“Washington is keen to avoid a direct military confrontation with Iran due to unpredictable regional consequences.”
(واشنگٹن ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریزاں ہے کیونکہ اس کے علاقائی نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہیں۔)
یہ گریز دراصل خوف ہے—وہ خوف جو ایرانی مزاحمت، علاقائی اثرورسوخ اور جنگ کے پھیلاؤ کے امکان نے پیدا کیا ہے۔
معروف امریکی جریدہ Foreign Affairs صاف لفظوں میں تسلیم کرتا ہے:
“Iran has mastered the art of deterrence without full-scale war.”
(ایران نے مکمل جنگ کے بغیر باز deterrence کا فن سیکھ لیا ہے۔)
یہ وہی deterrence ہے جس پر کبھی صرف امریکہ کی اجارہ داری تھی۔ آج وہی ہتھیار ایران کے ہاتھ میں ہے، اور یہی حقیقت امریکی صدر کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
فرانسیسی اخبار Le Monde لکھتا ہے:
“The U.S. administration appears trapped between the desire to show strength and the fear of escalation.”
(امریکی انتظامیہ طاقت دکھانے کی خواہش اور جنگ کے پھیلاؤ کے خوف کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔)
یعنی امریکہ بولتا سخت ہے، مگر قدم پیچھے ہٹ کر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس ایران خاموشی سے ایسے پیغامات دے رہا ہے جنہیں دنیا نظر انداز نہیں کر سکتی۔
قطری نشریاتی ادارہ Al Jazeera اس صورتِ حال کو یوں بیان کرتا ہے:
“Iran is no longer reacting defensively; it is shaping the regional narrative.”
(ایران اب دفاعی ردِعمل تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کا بیانیہ خود تشکیل دے رہا ہے۔)
یہی وہ نکتہ ہے جہاں طاقت کا توازن بدلتا ہے۔ بیانیہ جس کے ہاتھ میں ہو، سمت بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
حقیقت اب چھپ نہیں سکتی:
امریکی صدر کی پریشانی ایران کی کسی ایک کارروائی سے نہیں، بلکہ اس حقیقت سے ہے کہ
امریکہ اب واحد فیصلہ ساز نہیں رہا۔.
اور بین الاقوامی میڈیا کی یہ گواہیاں اس بات کا اعلان ہیں کہ:
واشنگٹن کا خوف اب خبر بن چکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں