October 28, 2026

انڈیا سے خون آلود ہجرت کاسفر کرنے والے ایک قلندر جج سید اکرام حسین جعفری کی داستاں حیات،

20240919_181431

انڈیا سے خون آلود ہجرت کاسفر کرنے والے ایک قلندر جج سید اکرام حسین جعفری کی داستاں حیات،
تبت سینٹر کے سامنے جج ہونے کا دعوی کرنے پر ٹریفک کے سپاہی نے تھپڑ دے مارا اور 5 گھنٹے گارڈن تھانہ کے لاک اپ میں بند رکھا،
۔۔۔۔۔۔۔
ججز کے احتجاج پر آئی جی نے خود تھانے جاکر رہائی دلوائی،
سول سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیش جج بن کر بھی ہمیشہ بس میں سفر کرتے رہے،
سکھر میں تعیناتی کے دوران شدید گرمی میں روزانہ پیدل روہڑی جاتے،
موجودہ ایڈیشنل سیشن جج سید خلیل انور جعفری کے والد اور صحافی عارف ہاشمی کے سسر تھے،

کراچی (آغاخالد)
نیو کراچی کے رہائشی سول جج سید اکرام حسین جعفری کیا کمال کے آدمی تھے؟ تقوا اور ایمانداری ان کے سامنے دوزانو رہتے 1989 میں وہ سول جج تھے مگر ایمانداری کا عالم یہ تھا کہ ساری زندگی بس میں سفر کرتے رہے آخری عمر تک اپنی گاڑی بھی نہ خرید سکے اور ہمیشہ وقت پر کراچی کے سٹی کورٹ پہنچ تے ان کے رفقاء بتاتے ہیں آندھی ہو یا طوفاں چھٹی ان کی لغت میں نہ تھی ایک روز وہ عدالت جانے کو بس میں سوار ہوے اور ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر کے چوراہے پر ٹریفک پولیس نے بس کو روک لیا اور کسی وجہ سے چالان کے ساتھ بس بھی تحویل میں لینے لگے جس پر بس کے عملے اور ٹریفک پولیس میں تکرار ہوگئی جبکہ ان دنوں ٹریفک پولیس ضلعی پولیس کا حصہ ہوتی تھی اور ہر تھانہ کی کچھ نفری ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہوتی تھی، بس والے کی حمایت میں پیچھے سے آنے والی مزید بسوں کاعملہ بھی آگیا، ہمیشہ وقت پر عدالت پہنچنے والے سید صاحب کو تشویش ہوئی اور وہ جھگڑے کی طوالت کو دیکھتے ہوے بس سے اتر کر ٹریفک پولیس کے پاس پہنچے اور ان سے اپنے مخصوص عاجزانہ انداز میں درخواست کی کہ وہ جھگڑے کو طول دینے کی بجائے اسے ختم کریں انہیں ڈیوٹی پر پہنچنے میں تاخیر ہورہی ہے پولیس والے جو پہلے ہی طیش میں تھے ان کو دھکا دے کر بولے جائو بابا تم اپنا کام کرو، بڑے آئے سفارشی، تو سید اکرام حسین نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو ایک سپاہی نے زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے ہوے کہا فراڈی سفر بس میں کرہاہے اور دعوے ججی کے اور اس کے ساتھ ہی انہیں موبائل میں ڈال کے گارڈن تھانے لے جاکر لاک اپ کردیا وہ 5 گھنٹے لاک اپ میں رہے پھر بمشکل انہوں نے کسی طرح اپنے ساتھی ججز تک اطلاع پہنچائی جس پر سارے سول جج کام روک کر اپنے سیشن جج کے پاس گئے جنہوں نے اعلی حکام سے رابطہ کیا تو اس وقت کے آئی جی سندھ پولیس خاور زماں خود گارڈن تھانے پہنچے اور سید اکرام حسین جعفری کو رہائی دلوائی اور پورے تھانہ کو معطل کرکے ذمہ داران کو اسی تھانے کے لاک اپ میں ڈال دیا بعد ازاں وہی اکرام حسین جعفری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدہ تک پہنچے انہوں نے سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی خدمات انجام دیں، جن میں سکھر اور جیکب آباد بھی شامل ہیں سکھر میں تعیناتی کے دوران روزانہ سکھر سے روہڑی اور دوپہر کو واپسی پر روہڑی سے سکھر پیدل آتے جاتے تھے کئی مرتبہ لوگ انہیں پہچان کر لفٹ کی پیش کش کرتے مگر وہ بڑی خندہ پیشانی سے معذرت کرلیتے ایک روز سرکاری باورچی نے جو ان کے لیے پریشان رہتا تھا دکھی ہوکر کہا کہ وہ راہ گیروں کی پیشکش قبول کرلیا کریں دوپہر کو سکھر کی اتنی شدید گرمی میں پیدل آتے جاتے ہیں تو سید صاحب نے کہا، جس کا احسان لونگا اگر وہ کل کسی کی سفارش لے آیا تو کیا کرونگا، ایسے تھے انڈیا سے خون آلود ہجرت کاسفر کرنے والے قلندر لوگ جن کی ہجرت کا آج کچھ لوگ بے دردی سے تمسخر اڑاتے ہیں، وہ 1938 میں ہندوستان کے شہر بھرت پور آگرہ میں پیدا ہوئے مارچ 1954 میں پاکستان آئے اور زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں لیکچرار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں 1958 میں ایل ایل بی کرنے کے بعد سول جج بنے اور ترقی کرتے ہوئے سیشن جج مقرر ہوے وہ بینکنگ کورٹ، وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ، کسٹم کورٹ اور اسمال کازز کورٹ کے جج رہے رٹائر منٹ کے بعد انہیں کنٹریکٹ پر جج تعینات کیا گیا بعد ازاں اپنی عمر اور صحت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مزید ملازمت سے معذرت کرلی وہ ایڈیشنل سیشن جج سید خلیل حسین جعفری کے والد اور ممتاز صحافی روزنامہ عوام کے کورٹ رپورٹر کراچی پریس کلب اور آرٹس کونسل کے ممبر عارف حسین ہاشمی کے سسر تھے وہ بینچ اور بار میں نہایت معتبر اور ایماندار جج کے طور پر جانے جاتے تھے، قابل رشک زندگی گزار کر 26/6/2020 کو اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔
انااللہ وانا الیہ راجعون