2 بیٹے قتل اور تیسرا گرفتار ۔۔۔۔میں کروں تو کیا کروں ؟؟؟ میں انصاف نہیں چاہتی میں اپنی موت چاہتی ہوں
2 بیٹے قتل اور تیسرا گرفتار ۔۔۔۔میں کروں تو کیا کروں ؟؟؟ میں انصاف نہیں چاہتی میں اپنی موت چاہتی ہوں ، میرا تو سب کچھ ختم ہو گیا ۔۔۔کس کو گلہ دوں کس کی شکایت کروں ۔۔۔۔۔ مال و جائیداد کے لالچ میں برباد ہونیوالے ایک گھرانے کی ماں جی کی سچی کہانی ۔۔۔۔ پاکپتن کے ایک بزرگ نے اپنی اولاد جوان ہونے پر اور اپنے انتقال سے پہلے اپنی سب جائیداد 5 بیٹوں اور بیٹیوں میں انکے حصے کے مطابق تقسیم کردی تھی ، پانچ بیٹوں میں سے ایک بیٹا سلیم اس تقسیم کے بعد دیگر چار بھائیوں سے بول چال چھوڑ چکا تھا ، اہل گاؤں کے مطابق جائیداد کی تقسیم منصفانہ تھی مگر سلیم گاؤں میں ہر کسی کو کہتا میرے بھائیوں نے میرا حق مارا ہے ۔۔۔۔ بیٹوں کے درمیان یہ چپقلیش دیکھ کر بوڑھی ماں نے اپنا حصہ بھی سارے کا سارا بیٹوں میں تقسیم کردیا مگر گھر میں چپقلش ختم نہ ہوئی ، ایک روز ملزم نے رات کے تین بجے اٹھ کر اپنے بڑے بھائی اسلم کو اس وقت گو۔لیاں مار دیں جب وہ سو رہا تھا فا۔ئیر کی آواز سن کر ایک اور بھائی یوسف اپنے کمرے سے نکلا تو ملزم نے اسے بھی گو۔لیاں مار دیں ، مق۔تول یوسف کی اہلیہ کمرے سے باہر آئی تو اسے بھی نشانہ بنا دیا اسکے بعد ملزم یوسف کے بیٹے کو بھی گو۔لی مارنا چاہتا تھا لیکن گو۔لی چیمبر میں پھنسنے پر ملزم گھر میں ایک باتھ روم میں گھس گیا اندر سے کنڈی لگا لی اور لاہور میں مقیم اپنے ایک بھائی کو سارے واقعہ کی اطلاع دی ۔۔۔۔۔ گھر سے پانچ میں سے 2 بیٹوں ایک بہو کے جنازے اٹھنے اور ایک بیٹے کے گرفتار ہونے کے بعد بوڑھی ماں غم سے نڈھال رہی کئی روز گزر جانے کے بعد بھی ہر وقت روتی رہتی ، بوڑھی خاتون کہتی ہر کسی کو کہتی میں کس سے انصاف لوں اور کس کو پھا۔نسی لگواؤں ، میرے لیے تو سارا گھر مر گیا ساری دنیا ختم ہو گئی۔۔۔ سچ ہیں کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو جیتے جی مار دیتے ہیں ، اس بوڑھی ماں کے ساتھ بھی یہی ہوا ، اللہ کریم ہم سب کو مال جائیداد کے لالچ سے محفوظ رکھے ۔۔۔آمین