September 4, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر (بیورورپورٹ)اروڑ یونیورسٹی کی طالبات کا ماحول دوست فیشن میں انقلابی کارنامہ، کیلے کے تنوں

IMG-20260220-WA0235
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سکھر (بیورورپورٹ)اروڑ یونیورسٹی کی طالبات کا ماحول دوست فیشن میں انقلابی کارنامہ، کیلے کے تنوں اور گندم کی بوریوں سے دیدہ زیب ملبوسات تیار صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں قائم اروڑ یونیورسٹی آف آرٹ، آرکیٹیکچر، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج کی باہمت اور باصلاحیت طالبات نے ماحول دوست فیشن کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی۔ طالبات نے کیلے کے تنوں سے فائبر حاصل کر کے اسے دھاگے اور پھر خوبصورت ملبوسات میں ڈھال دیا، جبکہ گندم کی بوریوں اور ناکارہ جُوٹ (جوٹ) فیبرک کو کارآمد بنا کر دلکش ڈریسز تیار کیے۔طالبات کے مطابق سب سے پہلے کیلے کے پودے کے تنوں سے فائبر (ریشہ) حاصل کیا جاتا ہے۔ اس فائبر کو خشک کرنے کے بعد مخصوص مدت کے لیے پانی میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ نرم ہو جائے۔ بعد ازاں اسے ویونگ مشین کے ذریعے بُنا جاتا ہے اور ایک ایک فائبر کو جوڑ کر کپڑے کی شکل دی جاتی ہے۔ مزید ریفائننگ اور ٹریٹمنٹ کے بعد کپڑا نرم اور قابلِ استعمال ہو جاتا ہے، جسے جدید اسٹائل میں ڈیزائن کر کے دیدہ زیب سوٹ اور دیگر ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔طالبات کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ عمل مشکل محسوس ہوا کیونکہ کیلے کے فائبر سے تیار شدہ کپڑا سخت تھا اور سلائی کے دوران مسائل پیش آئے، تاہم تحقیق اور مسلسل محنت کے بعد اسے بہتر انداز میں قابلِ استعمال بنایا گیا۔ ایک طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ڈیزائن میں ڈائمنڈ اسٹچ اور منفرد کٹس کا استعمال کیا تاکہ ملبوسات جدید فیشن سے ہم آہنگ رہیں۔اسی طرح ایک اور طالبہ نے گندم کی بوریوں اور جُوٹ فیبرک کے ویسٹ میٹریل کو استعمال کرتے ہوئے منفرد ڈریس ڈیزائن کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی بڑی منڈیوں میں جُوٹ فیبرک کا بے تحاشا ضیاع ہوتا ہے، جسے اسٹوریج کے بعد ناکارہ سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ اس ویسٹ کو ری سائیکل کر کے انہوں نے ڈریس میں ڈریپ، کشن اسٹائل اور فیبرک ٹیکسچر کے ذریعے نیا انداز دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیزائن کا مقصد نہ صرف ماحول کو محفوظ بنانا ہے بلکہ مزدور طبقے کی محنت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ہے، کیونکہ جُوٹ اور دیگر خام مال کی تیاری میں محنت کش طبقہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔طالبات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ فیشن انڈسٹری میں سسٹینیبلٹی (پائیداری) کے رجحان کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیلے کا فائبر بایو ڈیگریڈیبل ہے، جو ماحول کو نقصان نہیں پہنچاتا، جبکہ ویسٹ میٹریل کے استعمال سے کچرے میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران کے مطابق طلبہ نہ صرف اپنی تعلیم کے دوران جدید اور ماحول دوست منصوبوں پر کام کر رہے ہیں بلکہ کئی طالبات نے اپنے اسٹوڈیوز اور برانڈز بھی متعارف کرا دیے ہیں، جہاں ان کے تیار کردہ کلیکشنز مارکیٹ میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اس طرح وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ باعزت روزگار بھی حاصل کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ماحول دوست فیشن کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اروڑ یونیورسٹی کی طالبات کا یہ اقدام نہ صرف تعلیمی کامیابی ہے بلکہ معاشی اور ماحولیاتی حوالے سے بھی اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا تیار کردہ ملبوسات عام صارفین کی پہنچ میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سسٹینیبل فیشن کو اپنائیں۔شہری حلقوں اور تعلیمی ماہرین نے طالبات کی اس تخلیقی اور ماحول دوست کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف فیشن انڈسٹری بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بھی مثبت تبدیلی کا باعث بنیں گے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0