میں آج کل “شعور” تلاش کر رہا ہوں… سنا ہے خیبرپختونخوا میں بہت پایا جاتا ہے۔
میں آج کل “شعور” تلاش کر رہا ہوں… سنا ہے خیبرپختونخوا میں بہت پایا جاتا ہے۔
کہتے ہیں یہاں ترقی نہیں، شعور دیا جاتا ہے۔
تو میں نے سوچا پوچھ ہی لوں…
کیا شعور یہ ہوتا ہے کہ
ہسپتال جاؤ تو دوا اپنی جیب سے لو
اور واپسی پر کہو: “الحمدللہ میرا شعور بڑھ گیا”؟
کیا شعور یہ ہوتا ہے کہ
نوجوان ڈگری لے کر بے روزگار بیٹھا ہو
اور اسے سمجھایا جائے: “بیٹا نوکری نہیں، نظریہ اہم ہوتا ہے”؟
کیا شعور یہ ہے کہ
گلی میں خوف ہو، تھانے میں سفارش چلے
مگر پریس کانفرنس میں کہا جائے: “امن کی فضا قائم ہے”؟
ایک بیٹی نے پوچھ لیا:
صوبہ پیچھے کیوں جا رہا ہے؟
کرپشن کی باتیں کیوں عام ہیں؟
سیاسی لوگوں کی دولت کیوں بڑھ رہی ہے؟
جواب میں مسئلہ حل نہیں ہوا —
ترقی کی تعریف بدل دی گئی۔
واہ!
یہ تو ویسا ہی ہوا جیسے
گھر میں راشن نہ ہو
اور باپ بچوں کو لیکچر دے: “اصل خوراک نظریہ ہوتا ہے”
پھر حسبِ روایت سوال کرنے والی پر لیبل لگا دیا گیا:
“یہ مخالف پارٹی کی ہوگی”
یعنی یہاں سوال پوچھنے سے پہلے
سیاسی ٹیسٹ دینا ضروری ہے؟
ایمانداری کا ثبوت نہیں، پارٹی کا سرٹیفکیٹ چاہیے؟
مجھے واقعی سمجھائیں…
کیا شعور یہ ہے کہ
سڑک پر لاشیں انصاف مانگتی رہیں
اور ہم فلسفہ بانٹتے رہیں؟
کیا شعور یہ ہے کہ
کرپشن پر سوال کرو تو جواب ملے:
“آپ کو سمجھ نہیں ہے”؟
کیا شعور یہ ہے کہ
عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی سے پریشان ہوں
مگر لیڈر مطمئن ہو کہ
“قوم کو شعور دے دیا ہے”؟
اگر یہی شعور ہے
تو بھائی ہمیں تھوڑی سی ترقی والی بے شعوری ہی دے دو۔
کم از کم
ہسپتال میں دوا مل جائے
نوجوان کو نوکری مل جائے
اور شہری کو تحفظ کا احساس تو ہو۔
باقی فلسفہ آپ رکھ لیں
ہمیں زندگی گزارنی ہے، تھیسس نہیں لکھنا۔