October 25, 2026

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان کے وفد کی ڈی آئی جی جیل خانہ جات سرگودھا سعید گوندل سے خصوصی ملاقات

IMG-20261025-WA0085

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان کے وفد کی ڈی آئی جی جیل خانہ جات سرگودھا سعید گوندل سے خصوصی ملاقات

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

معاشرے کی حقیقی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی خوشحالی سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور، محروم اور مشکلات میں گھرے افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ بالخصوص جیلوں میں قید افراد کے ساتھ انسانی ہمدردی، قانون کے تقاضوں اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق سلوک کرنا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے کسی صورت چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ قیدی بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی اصلاح، تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے اقدامات کرنا درحقیقت ایک بہتر اور محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔
اسی مثبت سوچ، انسانی ہمدردی اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے کے تحت انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سرگودھا میں ڈی آئی جی جیل خانہ جات سعید گوندل سے ان کے دفتر میں ایک اہم، خوشگوار اور تعمیری ملاقات کی۔ وفد کی قیادت ڈائریکٹر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان رانا راحت علی نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ کوآرڈینیٹر ٹو ڈائریکٹر پاکستان چوہدری طارق منہاس اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے کوآرڈینیٹر چوہدری ظفر گوندل بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے تحفظ، جیلوں میں قید افراد کی فلاح و بہبود اور اصلاحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کی راہیں تلاش کرنا تھا۔
ملاقات کے دوران رانا راحت علی نے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان کے اغراض و مقاصد، تنظیمی ڈھانچے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کی پاسداری، محروم طبقات کی داد رسی اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا تنظیم کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
اس ملاقات کا سب سے اہم اور قابلِ توجہ پہلو جیلوں میں قید افراد کی فلاح و بہبود اور ان کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات پر تبادلۂ خیال تھا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں کو ایسی اصلاح گاہوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جہاں قیدیوں کو تعلیم، اخلاقی تربیت، فنی مہارتوں اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر قیدیوں کو دورانِ اسیری تعلیم حاصل کرنے، قرآنِ کریم کی تعلیم سے استفادہ کرنے اور مختلف ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آئیں تو وہ رہائی کے بعد باعزت روزگار حاصل کرکے معاشرے کے مفید شہری بن سکتے ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تعلیم اور ہنر انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے مؤثر ذرائع ہیں۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان کے وفد نے قیدیوں کے ساتھ قانون کے مطابق انسانی اور باوقار سلوک، ان کی صحت و تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں میں ممکنہ آسانیاں پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ یہ تجاویز اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور ان کی اصلاح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پہلو ہیں، جنہیں مؤثر حکمتِ عملی اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر چوہدری طارق منہاس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیدی بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے ان سے نفرت کرنے کے بجائے ان کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک قیدی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جائے تو اس کے اثرات صرف اسی فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کے خاندان اور پورے معاشرے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان جیلوں میں اصلاحی پروگراموں کے فروغ اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔
چوہدری ظفر گوندل نے بھی اس موقع پر انسانی حقوق کے تحفظ اور جیل اصلاحات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان انسانی وقار، بنیادی حقوق اور معاشرتی فلاح کی علمبردار تنظیم ہے۔ تنظیم اس عزم کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی کہ قیدیوں کی زندگیوں میں بہتری لانے، ان کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا ذمہ دار شہری بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی حمایت کی جائے۔
ڈی آئی جی جیل خانہ جات سعید گوندل نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب حکومت کی ہدایات کی روشنی میں جیلوں کو محض قید خانے نہیں بلکہ اصلاح گاہیں بنانے پر یقین رکھتا ہے۔ قیدیوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور اخلاقی تربیت محکمہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ جب کوئی قیدی اپنی سزا مکمل کرکے جیل سے باہر نکلے تو وہ پہلے سے بہتر انسان بن چکا ہو اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور قیدیوں کی فلاح کے لیے سرکاری اداروں، جیل انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان رابطہ اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مثبت سوچ رکھنے والی تنظیموں کی تجاویز اور عملی تعاون سے اصلاحی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان جیسی تنظیموں کے لیے اپنے دفتر کے دروازے کھلے رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
بلاشبہ اس نوعیت کی ملاقاتیں اداروں اور سماجی تنظیموں کے درمیان اعتماد سازی، باہمی تعاون اور مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ سماجی تنظیموں اور معاشرے کے ہر باشعور فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بالخصوص جیلوں میں قید افراد کی اصلاح کے لیے ایسے پروگراموں کی ضرورت ہے جن کے ذریعے تعلیم، فنی تربیت، ذہنی و اخلاقی نشوونما اور قانونی معاونت کو مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔
ملاقات کے اختتام پر انسانی حقوق کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور جیلوں میں قید افراد کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کسی انسان کو سزا دینا قانون کا تقاضا ہو سکتا ہے، لیکن اس کی اصلاح کے مواقع فراہم کرنا ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ اگر جیلوں میں اصلاح، تربیت اور انسانی وقار کو مرکزی حیثیت دی جائے تو نہ صرف قیدیوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے، بلکہ جرائم کی روک تھام اور ایک پُرامن، ذمہ دار اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو انسانی حقوق کے حقیقی مفہوم کو اجاگر کرتی اور اصلاحِ معاشرہ کی منزل کو قریب لاتی ہے۔