October 18, 2026

سکر بیورو بیفسیدنصیر حسین زیدی 20 ارب روپے کی لاگت سے سکھر بیراج کی مستقل بحالی پر سوالات

IMG-20260127-WA0335

سکر بیورو بیفسیدنصیر حسین زیدی
20 ارب روپے کی لاگت سے سکھر بیراج کی مستقل بحالی پر سوالات
پہلے فیز میں گیٹس کی تبدیلی، ناقص مٹیریل اور تکنیکی خامیوں کے باعث آپریشن میں مشکلات
لیفٹ سائیڈ کے کام پر عدم اطمینان، مبینہ طور پر تھرڈ پارٹی کے ذریعے کام، اربوں کی بے ضابطگیوں کے الزامات

سکھر (بیورورپورٹ)تقریباً 20 ارب روپے کی لاگت سے سکھر بیراج کی مستقل بحالی کے منصوبے پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ منصوبے کے پہلے فیز کے تحت اکتوبر 2024 سے 31 جون 2025 تک بیراج کے 16 گیٹس کی تبدیلی کا کام کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق یہ گیٹس ناقص اور ناکارہ مٹیریل سے تیار کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیٹس کو اوپر نیچے کرنے کے لیے روایتی چین رولر کے بجائے لوہے کے وہیل نصب کیے گئے ہیں، جو نہ صرف آپریشن کے دوران مشکلات کا باعث بن رہے ہیں بلکہ کم وقت میں زنگ آلود بھی ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تکنیکی فیصلہ بیراج جیسے حساس انفرااسٹرکچر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ سکھر بیراج میں سالانہ کلورین اور مینٹیننس کا عمل ہر سال 6 جنوری سے 20 جنوری کے درمیان کیا جاتا ہے، کیونکہ سال کے 12 مہینے بیراج کے گیٹس پانی کے اندر رہتے ہیں۔ اس دوران گیٹس کو پانی سے اوپر اٹھا کر کمپریسر کے ذریعے پریشر سے دھویا جاتا ہے، بعد ازاں آئلنگ اور تجویز کردہ گریسنگ کی جاتی ہے تاکہ گیٹس کی کارکردگی برقرار رہے۔رواں سال سکھر بیراج کے لیفٹ سائیڈ کے گیٹس کی آئلنگ و گریسنگ اور چاروں کینالوں کے فلٹر بلاکس کی صفائی و مرمت کا کام ایک چینی کمپنی کو سونپا گیا، جبکہ رائیٹ سائیڈ کینالوں، دریا کے گیٹس کی آئلنگ و گریسنگ اور کینالوں کے فلٹر بلاکس کا کام ایکسیئن سکھر بیراج کی نگرانی میں مقررہ وقت کے اندر مکمل کر لیا گیا۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹ سائیڈ پر چینی کمپنی کی جانب سے کیا گیا کام غیر تسلی بخش رہا۔ مزید انکشافات میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر سکھر بیراج کے گیٹس کی تبدیلی کا کام چینی کمپنی خود کرنے کے بجائے تھرڈ پارٹی کے ذریعے کروایا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس پورے منصوبے میں کنسلٹنٹ نصیر لاشاری اور صبغت اللہ شیخ پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر جعلی یا “دو نمبر” کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے کے اس منصوبے میں تکنیکی اور مالی بے قاعدگیوں کو فروغ دیا۔ اطلاعات کے مطابق سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے پراجیکٹ مینجمنٹ کے سربراہ انجینئر پریتم داس بھی اس مبینہ گٹھ جوڑ میں شامل ہیں، اور اوپر تک رقوم کی منتقلی کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ان سنگین الزامات کے بعد ماہرین، انجینئرنگ حلقوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر بیراج جیسے قومی اہمیت کے منصوبے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ناقص کام میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں بیراج اور اس سے وابستہ نہری نظام کو کسی بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔