October 26, 2026

سندھ میں پولیس گردی اور طاقت کے ذریعے مظلوم طبقات پر بڑھتا ہوا ظلم سوال ریاست سے ہے

Screenshot_2026-01-20_160945

سندھ میں پولیس گردی اور طاقت کے ذریعے مظلوم طبقات پر بڑھتا ہوا ظلم سوال ریاست سے ہے

پاکستان سٹیزن میڈیا سیل حیدر آباد کے وائیس پریزیڈنٹ شکیل گڈی( کالم آرٹیکل )
(((مظلوم عوام اور پولیس گردی )))))))))))))))))))))) سندھ

سندھ جسے صوفیوں، درویشوں، امن، برداشت اور رواداری کی دھرتی کہا جاتا ہے، آج اسی دھرتی پر پولیس گردی اور مظلوم طبقات کے استحصال کی بدترین مثالیں قائم کی جا رہی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ صوبہ جو ہمیشہ محروموں کی آواز بنا، آج خود اپنے ہی عوام کے لیے خوف کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

سندھ میں پولیس کا کردار عوام کے محافظ کے بجائے طاقتور مال دار طبقے کے ذاتی محافظ اور جبر کے آلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ دیہی سندھ ہو یا شہری علاقے، غریب ہاری، مزدور، ماہی گیر، اقلیتی برادریاں، خواتین اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے سب پولیس تشدد، جھوٹے مقدمات، جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون کارروائیوں کی زد میں ہیں۔

پولیس گردی: ریاستی طاقت کا غلط استعمال

پولیس کا بنیادی فرض شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، مگر سندھ میں پولیس اکثر و بیشتر وڈیروں، بااثر سیاسی شخصیات اور سرمایہ دار طبقے کے اشاروں پر کام کرتی نظر آتی ہے۔ کسی غریب ہاری سے زمین چھیننی ہو، کسی مظلوم کو خاموش کرانا ہو یا کسی حق مانگنے والے کو سبق سکھانا ہو، پولیس فورس بروئے کار لائی جاتی ہے۔

جھوٹے مقدمات، رات کے اندھیرے میں چھاپے، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنا، تھانوں میں تشدد اور رشوت کا نظام عام ہو چکا ہے۔ انصاف کے متلاشی افراد کے لیے تھانہ ایک خوفناک جگہ بن چکا ہے، جہاں انصاف نہیں بلکہ ذلت، تشدد اور مجبوری ملتی ہے۔

مظلوم طبقات پر بڑھتا ہوا ظلم

سندھ کے کمزور لوگ آج بھی غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو پولیس ان پر لاٹھیاں برساتے ہوئے نظر آتی ہے۔ عوام کو روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور خواتین کے خلاف جرائم میں پولیس کی مجرمانہ غفلت یا ملی بھگت واضح نظر آتی ہے۔

سچ لکھنے والوں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کلئے بولنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال معمول بن چکا ہے۔ پرامن احتجاج کو ریاست دشمنی قرار دے کر کچلا جاتا ہے، جبکہ اصل جرائم پیشہ عناصر اکثر بااثر ہونے کی وجہ سے قانون سے بالاتر رہتے ہیں۔

بالا حکام کی خاموشی اور بے حسی

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سندھ کے بالا حکام اور اہم پوسٹوں پر مقرر آفسر جنہیں ہم عوام دوستی کا علمبردار کہتی ہے، مگر عملی طور پر پولیس گردی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پولیس اصلاحات محض دعوؤں تک محدود ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

عدالتی نظام کی سستی، کمزور تفتیش اور طاقتور طبقے کے اثر و رسوخ نے مظلوم کے لیے انصاف کا دروازہ مزید تنگ کر دیا ہے۔ جب انصاف مہنگا اور مشکل ہو جائے تو ظلم خود بخود طاقت پکڑ لیتا ہے۔

وقت کا تقاضا

اب وقت آ چکا ہے کہ سندھ کے باشعور عوام اس جبر کے خلاف متحد ہوں۔ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا، انسانی حقوق کی پاسداری، شفاف احتساب اور مظلوم طبقات کو فوری انصاف فراہم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر سندھ میں پولیس گردی اور طاقت کے ذریعے ظلم کا یہ سلسلہ نہ رکا تو یہ دھرتی مزید بے چینی، نفرت اور عدم استحکام کی طرف بڑھے گی۔ ایک پُرامن، باوقار اور انصاف پر مبنی سندھ ہی اس خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

سندھ کے مظلوم عوام آج بھی سوال کر رہے ہیں:
کیا قانون صرف طاقتور کے لیے ہے؟
یا کبھی کمزور کے لیے بھی انصاف کا سورج طلوع ہوگا؟