سکھر (. ) ہومیوپیتھی کی دوا بطور نشہ استعمال ہونے کا انکشاف، 300 ایم ایل کی بوتل 500 سے 600
سکھر (. ) ہومیوپیتھی کی دوا بطور نشہ استعمال ہونے کا انکشاف، 300 ایم ایل کی بوتل 500 سے 600 روپے تک میں فروخت، ہول سیل میڈیسن کی بعض دکانوں پر کام کرنیوالے لڑکے یومیہ 2 درجن سے زائد بوتلیں نشے کے عادی لوگوں کو فروخت کرتے ہیں اور ہزاروں روپے منافع بٹور رہے ہیں، محکمہ صحت، ڈرگ انسپکٹر اور پولیس نے مبینہ طور پر چشم پوشی کررکھی ہے. پولیس کی جانب سے منشیات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے جانیوالی کارروائیوں اور بڑھتی مہنگائی کے باعث نشہ کے عادی افراد نے ہومیوپیتھی کی ایک دوا کو بطور نشہ استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو کہ شراب کی نسبت کم قیمت میں دستیاب ہے البتہ اس کے مسلسل استعمال کے منفی اثرات جسم کے مختلف اندرونی اعضاء کو بری طرح متاثر و خراب کررہے ہیں. مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہول سیل میڈیسن مارکیٹ کی بعض دکانوں پر کام کرنیوالے لڑکوں نے ہومیوپیتھی کی ایک دوا کو بطور نشہ فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے، پرانا سکھر، ریجنٹ، والس روڈ سمیت اطراف کی رہائشی بستیوں میں روزانہ 2 درجن سے زائد بوتلیں فروخت ہورہی ہیں، جس سے انہیں ہزاروں روپے منافع مل رہا ہے. 300 ایم ایل کی بطور 500 سے 600 روپے تک میں فروخت ہورہی ہے، عام طور پر یہ دوا کسی بڑے آپریشن کے بعد درد میں افاقہ، ذہن کو غنودگی میں رکھنے کے لئے پانی کے ایک گلاس میں 4 سے 5 قطرے ڈال کر استعمال کی جاتی ہے مگر نشہ کے عادی افراد اس کا خوب استعمال کررہے ہیں، فروخت میں ملوث عناصر کیخلاف متعلقہ محکموں کے افسران کسی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہیں، محکمہ صحت کے افسران و ڈرگ انسپکٹر نے بھی اس اہم معاملہ سے چشم پوشی کررکھی ہے. شہری و عوامی حلقوں نے دوا کے بطور نشہ استعمال کرنے اور کھلے عام فروخت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹری نسخہ کے بغیر ادویات کی فروخت ویسے ہی ممنوع ہے مگر یہاں تو دوا کو بطور شراب فروخت کیا جارہا ہے، پولیس، محکمہ صحت و دیگر متعلقہ افسران سے مطالبہ ہے کہ فروخت میں ملوث عناصر کیخلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس گھناؤنے کاروبار کو روکا جائے.